امت نیوز ڈیسک //
جموں، 4 جولائی: جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر "نامناسب” اور "علیحدگی پسندی سے متعلق” مواد پر مشتمل دو کتابوں کی خریداری اور منظوری کے معاملے میں محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے۔
محکمہ اسکولی تعلیم کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق تحقیقات میں کتابوں کے انتخاب اور سفارش کے عمل میں سنگین غفلت اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہ کرنے کی نشاندہی ہوئی، جس کے بعد یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
حکومت کے مطابق "Personalities and Legends of J&K” (مصنفین: ہلال احمد اور سنتوش مینا) اور "Great Personalities of Jammu and Kashmir” (مصنف: سوشانت گیری) کو سمگرا شکشا لائبریری اسکیم کے تحت سرکاری اسکولوں میں تقسیم کیا گیا تھا، تاہم بعد میں دونوں کتابیں واپس لے لی گئیں۔
حکم نامے کے مطابق پہلی کتاب کی 123 کاپیاں جموں، رام بن اور ادھم پور کے اسکولوں میں جبکہ دوسری کتاب کی 128 کاپیاں جموں اور بارہمولہ کے اسکولوں میں فراہم کی گئی تھیں۔
حکومت نے کہا کہ ان کتابوں میں ایسا مواد شامل تھا جو مبینہ طور پر علیحدگی پسندی سے متعلق ہے اور امن و امان کی صورتحال پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، جس کے باعث متعلقہ ماہرین کی ذیلی کمیٹی اور نگران افسران کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔
معطل کیے گئے افسران میں کوآرڈینیٹر لائبریری فاضل عمران صدیقی، اسسٹنٹ کوآرڈینیٹر گرجیت سنگھ، پرنسپل سنجیو شرما، اکیڈمک آفیسر شازیہ کوثر، لیکچرر امتیاز احمد میر، نیرنجن شرما، رینو مینگی اور راج موہنی شامل ہیں۔
حکومت نے کنٹریکچول کمپیوٹر اسسٹنٹ شیخ سہیل احمد کی خدمات بھی فوری طور پر ختم کر دی ہیں۔
اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل چیف سیکریٹری (محکمہ بجلی) اشونی کمار کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے ایڈیشنل سیکریٹری روہت شرما پریزنٹنگ آفیسر ہوں گے۔ انکوائری رپورٹ 30 دن کے اندر پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور ناشرین کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرتے ہوئے ان کی تمام شائع شدہ کتابیں اور مواد فوری طور پر واپس لینے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔





