امت نیوز ڈیسک //
واشنگٹن / تہران: امریکہ نے ایک بار پھر ایران کے مختلف فوجی اہداف پر وسیع فضائی حملے کیے ہیں، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) کے مطابق ان حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون ذخائر، ساحلی نگرانی کے مراکز، بحری صلاحیتوں اور فوجی لاجسٹکس سے متعلق تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر ایران کے حملوں کے جواب میں کی گئی۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بوشہر، بندر عباس، چابہار، ابو موسیٰ جزیرے اور دیگر ساحلی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ بعض فوجی تنصیبات اور بندرگاہوں کو بھی نقصان پہنچا۔ ایرانی حکام کے مطابق اہواز میں امریکی حملوں کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
ادھر ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ جوابی کارروائی کے پہلے مرحلے میں کویت کے عریفجان اور علی السالم، جبکہ بحرین کے الجفیر اور شیخ عیسیٰ میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ اگر ایران پر مزید حملے کیے گئے تو خطے میں موجود دیگر امریکی اڈے بھی ان کی کارروائیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔
کویتی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے، جبکہ بحرین میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی گئی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ "اگر امریکہ حملہ کرے گا تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا۔” دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ تنازع ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ہے اور اگر ایران نے دوبارہ حملہ کیا تو امریکہ اس سے بھی زیادہ سخت جواب دے گا۔
ایران نے امریکی حملوں کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سلامتی کونسل کے صدر اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو احتجاجی خطوط ارسال کیے ہیں۔ ایرانی حکام نے امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات بھی معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دریں اثنا مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ برینٹ خام تیل تقریباً 79 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل تقریباً 74 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔






