امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 10 جولائی: اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے جمعہ کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی حکومت پر کشمیر میں ترقیاتی کاموں کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی درجہ (اسٹیٹ ہڈ) کی بحالی کا مطالبہ حکومتی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
سری نگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بخاری نے کہا کہ کشمیر کے محدود تعمیری سیزن کا نصف سے زیادہ حصہ گزر چکا ہے، لیکن سڑکوں، بنیادی ڈھانچے اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر خاطر خواہ کام نہیں ہوا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ سال تقریباً 7 ہزار کروڑ روپے کے سرکاری فنڈز بروقت منصوبے مکمل نہ ہونے کی وجہ سے خرچ نہ ہو سکے۔
انہوں نے مقامی ٹھیکیداروں کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہیں خام مال کی فراہمی اور بقایاجات کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث ترقیاتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
الطاف بخاری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ موصول ہونے والے سرکاری فنڈز، ان کے استعمال اور غیر استعمال شدہ رقوم کی تفصیلات پر مشتمل وائٹ پیپر جاری کیا جائے اور ریاستی درجہ کے مطالبے کے بجائے عوامی مسائل اور ترقیاتی کاموں پر توجہ دی جائے۔




