امت نیوز ڈیسک //
10 جولائی: مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مہلک حملوں کے بعد اگرچہ عارضی خاموشی برقرار ہے، تاہم خطے میں کشیدگی اور بے یقینی بدستور قائم ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا خواہاں ہے اور تکنیکی سطح پر بات چیت کا عمل جاری ہے، تاہم آئندہ مذاکرات کے انعقاد کے بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
ایرانی ذرائع کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی چھ روزہ آخری رسومات میں 4 کروڑ 10 لاکھ سے 4 کروڑ 30 لاکھ افراد نے شرکت کی، جبکہ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے سربراہ نے امریکہ اور اسرائیل سے بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خامنہ ای کے قتل کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
ادھر اسرائیل نے جنوبی لبنان میں فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق کفار رمان اور دیگر علاقوں میں ڈرون حملے کیے گئے، جبکہ مسجدِ اقصیٰ کے خطیب اور فلسطین کے مفتیِ اعظم شیخ محمد حسین کو جمعہ کی نماز کے بعد اسرائیلی فورسز نے حراست میں لے لیا۔
دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مارچ میں جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں، جن میں 24 عام شہری بشمول 12 بچے جاں بحق ہوئے تھے، کی جنگی جرائم کے تحت تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر اسلحہ کی پابندی عائد کرے اور ذمہ دار افراد کا احتساب یقینی بنائے۔
اس دوران آبنائے ہرمز میں سکیورٹی خطرات بدستور بلند ترین سطح پر برقرار ہیں۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عالمی تیل کی سپلائی، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
ایران میں گزشتہ رات ہونے والے دھماکوں کے حوالے سے بھی صورتِ حال غیر واضح ہے۔ ایرانی حکام نے بعض حملوں کا ذمہ دار "دشمن قوتوں” کو قرار دیا، جبکہ امریکہ نے ان نئے حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔




