امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 13 جولائی: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے بھیجے گئے قانونی نوٹس کو اپنے لیے "اعزاز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی سیاسی جواب دینے کے بجائے عدالتوں کے پیچھے چھپ رہی ہے۔
سرینگر میں نیشنل کانفرنس ہیڈکوارٹر نوائے صبح میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ انہیں قانونی نوٹس کی الیکٹرانک نقل موصول ہوئی ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی انہیں ایک اہم سیاسی قوت سمجھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے بیانات ایک سیاسی پلیٹ فارم پر دیے تھے تاکہ ان کا سیاسی جواب دیا جائے، لیکن بی جے پی نے عدالت کا راستہ اختیار کیا۔
وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ نیشنل کانفرنس بھی پارٹی اور اس کی قیادت کے خلاف مبینہ ہتک آمیز اور بے بنیاد بیانات دینے والے بعض بی جے پی رہنماؤں کو قانونی نوٹس جاری کرے گی۔
جولائی 13 کے موقع پر عائد پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ انہیں اور دیگر نیشنل کانفرنس رہنماؤں کو مزارِ شہداء پر حاضری دینے سے روکنا اس بات کا ثبوت ہے کہ جموں و کشمیر میں "معمول کے حالات” کے سرکاری دعوے حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔
انہوں نے کہا کہ 13 جولائی 1931 کے شہداء نے جمہوریت اور عوامی حقوق کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، لیکن آج انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔
عمر عبداللہ نے امرناتھ یاترا کے دوران قومی شاہراہ کی بندش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر حالات واقعی معمول پر ہیں تو پھر یاتریوں کی حفاظت کے لیے ایسے غیر معمولی انتظامات کیوں کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل کانفرنس صرف 100 سے 150 افراد کے ساتھ مزارِ شہداء جانا چاہتی تھی، لیکن اس کی بھی اجازت نہیں دی گئی، جو انتظامیہ کے رویے پر سوال کھڑے کرتا ہے۔






