امت نیوز ڈیسک //
میرواعظ کشمیر مولوی عمر فاروق نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ”ہم نہایت عقیدت، احترام اور رنج و غم کے ساتھ اپنے اولین شہداءکو سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں، جنہوں نے آج سے پچانوے برس قبل اپنی عظیم قربانی دے کر جموں و کشمیر کے عوام کی انصاف، عزتِ نفس اور انسانی حقوق کی جدوجہد کی بنیاد رکھی۔ یہ جدوجہد آج بھی جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک اور بدقسمتی کی بات ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کو طاقت کے زور پر اپنے شہداءکے مزاروںپر فاتحہ خوانی اور خراجِ عقیدت پیش کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ مزارِ شہداء نقشبند صاحب کو محصور اور وہاں جانے والے تمام راستوں کو بند اور خار دار رکاوٹوں سے مسدود کر دیا گیا ہے، جامع مسجد سری نگر کے ارد گرد اطراف سخت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں، اور مجھے ایک مرتبہ پھر اپنے گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مزاروں پر پہرے بٹھائے جاسکتے ہیں، راستوں کو بند کیا جا سکتا ہے اور لوگوں کو گھروں تک محدود کیا جا سکتا ہے، مگر شہداء ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے اور ہماری اجتماعی یادداشت کا ہمیشہ حصہ رہیں گے۔






