امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 15 جولائی: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ سینئر پارٹی رہنما اور ان کے چچا ڈاکٹر مصطفیٰ کمال کے انتقال کے باوجود 20 جولائی کو نئی دہلی میں مجوزہ احتجاج اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق ہی ہوگا۔
عمر عبداللہ نے ڈاکٹر مصطفیٰ کمال کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر کمال خود بھی احتجاج ملتوی کرنے کے حق میں نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا، "اس پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، مصطفیٰ کمال بھی یہی چاہتے تھے۔”
انہوں نے بتایا کہ 11 جولائی کو ڈاکٹر مصطفیٰ کمال کی طبیعت انتہائی تشویشناک ہوگئی تھی، تاہم نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی کو ہدایت دی تھی کہ سیاسی پروگرام جاری رکھا جائے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے دہلی انتظامیہ سے ابھی تک منظوری نہیں ملی ہے، تاہم پارٹی انتظار کر رہی ہے اور متبادل منصوبہ بھی تیار رکھا گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی رہنما 19 جولائی کو ہر صورت دہلی روانہ ہوں گے۔ اگر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت نہ بھی ملی تو تمام رہنما دہلی پہنچ کر آئندہ کی حکمتِ عملی طے کریں گے۔
وزیر اعلیٰ نے ڈاکٹر مصطفیٰ کمال کے انتقال کو ذاتی اور سیاسی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی عوام، خصوصاً غریبوں کی خدمت کے لیے وقف رکھی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ڈاکٹر مصطفیٰ کمال وزیرِ صحت رہتے ہوئے بھی ٹنگمرگ میں مفت طبی خدمات فراہم کرتے رہے اور مختلف ادوار میں ٹنگمرگ، پٹن اور حضرت بل کی نمائندگی کرتے ہوئے عوام کی خدمت انجام دی۔






