رضوان سلطان
جموں کشمیر اور خاص طور پر کشمیر میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے بعد اگر کوئی تشویشناک مسئلہ درپیش ہے تو وہ بڑھتے ہوئے کینسر کے معاملے ہیں۔
کشمیر میں سرطان کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سال 2018 سے 2024 کے دوران وادی میں 50,551 سرطان کے کیسز سامنے آئے۔رواں برس ایک آر ٹی آئی درخواست کے ذریعے حاصل ہونے والے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں 2015 سے 2025 کے دوران 22,130 سرطان کے مریض رجسٹر ہوئے۔ ان میں پھیپھڑوں کا سرطان سب سے زیادہ عام رہا، جبکہ اس کے بعد چھاتی کا سرطان اور منہ کا سرطان نمایاں اقسام میں شامل ہیں۔ جموں میڈیکل کالج کے اعدادو شمار کے مطابق سال 2015 میں 1,867، 2016 میں 1,966، 2017 میں 1,860، 2018 میں 2,341، 2019 میں 2,102، 2020 میں 1,715، 2021 میں 1,756، 2022 میں 1,719، 2023 میں 2,036، 2024 میں 2,187 اور 2025 میں 2,581 کیسز رپورٹ ہوئے۔
وہیں اعداد و شمار کے مطابق کشمیر میں سرطان کے کیسز کی تعداد سال 2018 میں 6,649، 2019 میں 6,374، 2020 میں 6,113، 2021 میں 7,090، 2022 میں 7,846، 2023 میں 8,124 اور 2024 میں 8,355 رہی۔
ان اعدادوشمار پر اگر یقین کیا جائے تو 2024 تک 7 سال میں کشمیر میں 50 ہزار سے زائد کینسر کے کیسز درج کیے گیے وہیں جموں میں اس کی تعداد کم نظر آرہی ہے جو گیا رہ سال میں 22 ہزار ہے۔ وہیں رواں برس فروری میں جموں کشمیر سرکار نے کینسر کیسز سے متعلق اعدادوشمار اسمبلی میں پیش کیے۔ ان اعدادوشمار کے مطابق جموں کشمیر میں تین برس کے دوران 32,425 کیسز ریکارڈ کیے گئے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کشمیر میں 2022 سے 2024 کے دوران 25,621 سرطان کے کیسز درج کیے گئے۔ ان میں 2022 میں 8,021، 2023 میں 8,621 اور 2024 میں 8,979 مریض شامل ہیں۔دوسری جانب جموں ڈویژن میں 2023 سے 2025 کے دوران 6,804 کیسز رپورٹ ہوئے۔ ان میں 2023 میں 2,026، 2024 میں 2,187 اور 2025 میں 2,581 مریض رجسٹر کیے گئے۔کشمیر میں بڑھتے کیسز کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پچھلے تین سال میں25 ہزار سے زائد کیسز کشمیر میں درج ہوئے وہیں جموں میں 6800 سے زائد کیسز ہی ریکارڈ ہوئے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پھیپھڑوں، چھاتی، منہ، رحمِ گردن، پروسٹیٹ اور لبلبے کے سرطان خطے میں سب سے زیادہ پائے جانے والے امراض ہیں۔
ماہرینِ امراضِ سرطان کے مطابق پھیپھڑوں کے سرطان کی بڑی وجوہات میں تمباکو نوشی، بالواسطہ سگریٹ کا دھواں، فضائی آلودگی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سرطان کی بروقت تشخیص ہو جائے تو علاج کے امکانات نمایاں طور پر بہتر ہو جاتے ہیں، لیکن جموں و کشمیر میں زیادہ تر مریض بیماری کے آخری مراحل میں اسپتال پہنچتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق سرطان کے مؤثر تدارک کے لیے جدید علاج کی سہولیات کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی، احتیاطی تدابیر، بروقت تشخیص، باقاعدہ اسکریننگ اور کمیونٹی کی شمولیت ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ پر پڑنے والے مالی اور نفسیاتی بوجھ کو کم کرنے کے لیے مؤثر حکومتی پالیسیوں کی بھی ضرورت ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں ایک بڑا مسئلہ بیماری کی دیر سے تشخیص ہے۔ بہت سے مریض اس وقت اسپتال پہنچتے ہیں جب مرض آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہوتا ہے، جس سے علاج کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
ان موذی بیماری کا دوسرا پہلو بھی ہے، ماہرینِ نفسیات کے مطابق سرطان کے مریض اکثر ذہنی دباؤ، بے چینی، ڈپریشن اور سماجی تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں، جبکہ اہلِ خانہ بھی مسلسل نگہداشت اور مالی دباؤ کے باعث شدید ذہنی تھکن محسوس کرتے ہیں۔ اس بیماری کے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکولوں، کالجوں، دفاتر اور کمیونٹی اداروں میں سرطان سے متعلق آگاہی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ لوگ بیماری کی ابتدائی علامات سے واقف ہوں اور بروقت طبی معائنہ کروا سکیں۔






