ڈیسک رپورٹ
جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما، سابق کابینی وزیر اور پارٹی کے ایڈیشنل جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال منگل کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کی وفات سے جموں و کشمیر کی سیاست ایک تجربہ کار، نظریاتی اور بااثر رہنما سے محروم ہوگئی۔
ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال شیرِ کشمیر شیخ محمد عبداللہ کے صاحبزادے، نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے چھوٹے بھائی اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے چچا تھے۔ وہ کئی دہائیوں تک نیشنل کانفرنس کی قیادت کا اہم حصہ رہے اور تنظیمی و سیاسی معاملات میں فعال کردار ادا کرتے رہے۔
ابتدائی طور پر انہوں نے طب کے شعبے کو اپنا پیشہ بنایا، تاہم بعد ازاں عملی سیاست میں قدم رکھا اور نیشنل کانفرنس کے پلیٹ فارم سے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔ 1983 میں وہ جموں و کشمیر قانون ساز کونسل کے رکن منتخب ہوئے اور اسی برس ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی قیادت میں قائم ہونے والی حکومت میں کابینی وزیر کی حیثیت سے شامل کیے گئے۔
1987 کے اسمبلی انتخابات میں وہ ضلع بارہمولہ کے گلمرگ اسمبلی حلقے سے کامیاب ہوئے اور بعد کے انتخابات میں بھی عوام نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ وہ 2002 تک مسلسل رکن اسمبلی رہے۔ اس دوران 1983، 1987 اور 1996 میں قائم ہونے والی نیشنل کانفرنس حکومتوں میں مختلف اہم وزارتوں کی ذمہ داریاں سنبھالتے رہے اور ریاستی انتظامیہ میں نمایاں کردار ادا کیا۔
پارٹی کے ایڈیشنل جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے ڈاکٹر مصطفیٰ کمال تنظیمی معاملات میں سرگرم رہے اور نیشنل کانفرنس کی سیاسی حکمت عملی کی تشکیل میں بھی ان کی رائے کو اہمیت حاصل رہی۔ انہیں پارٹی کے سینئر ترین رہنماؤں میں شمار کیا جاتا تھا اور کارکنوں سے ان کے قریبی روابط مشہور تھے۔
ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، سماجی شخصیات، پارٹی کارکنوں اور عوام نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ مقررین نے انہیں ایک باوقار، بااصول اور عوام دوست سیاست دان قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کئی دہائیوں تک جموں و کشمیر اور نیشنل کانفرنس کی خدمت کی۔
مرحوم کو سرینگر کے سونہ وار علاقے میں واقع بومن سر قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا، جہاں سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں کی بڑی تعدادنے شرکت کی۔






