ڈیسک رپورٹ
جموں و کشمیر میں برسراقتدار نیشنل کانفرنس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان سیاسی کشیدگی گزشتہ دنوں اس وقت مزید بڑھ گئی جب بی جے پی کی جموں و کشمیر یونٹ نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو قانونی نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے نیشنل کانفرنس کے ارکان اسمبلی کی مبینہ خرید و فروخت سے متعلق اپنے الزامات ثابت کرنے یا سات روز کے اندر غیر مشروط معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی نے خبردار کیا ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ اپنے الزامات واپس لینے یا معذرت کرنے میں ناکام رہے تو ان کے خلاف 100 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی جس میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ بی جے پی نے ان کی حکومت گرانے کی کوشش کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے کم از کم ایک رکن اسمبلی کو 20 سے 30 کروڑ روپے نقد رقم اور وزارت کی پیشکش کی تھی۔
قانونی نوٹس موصول ہونے کے بعد نیشنل کانفرنس ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ انہیں ایک وکیل کے ذریعے نوٹس کی الیکٹرانک نقل موصول ہوئی ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس نوٹس کو’’بی جے پی کا محبت نامہ‘‘ سمجھتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ’’میں اسے اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں۔ شاید میں جموں و کشمیر کا واحد سیاست دان ہوں جسے بی جے پی کی طرف سے ایسا محبت نامہ ملا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مجھے ایک ایسی سیاسی قوت سمجھتے ہیں جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ چونکہ ان کا بیان سیاسی نوعیت کا تھا، اس لیے انہیں توقع تھی کہ بی جے پی بھی اس کا سیاسی جواب دے گی، لیکن اس نے عدالت کا راستہ اختیار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر وہ چاہتے تو اسمبلی کے اندر یہی بیان دیتے جہاں آئینی استحقاق کی وجہ سے اس پر عدالت میں سوال نہیں اٹھایا جا سکتا تھا، تاہم انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
وزیر اعلیٰ نے بی جے پی کے ایک رہنما کا نام لیے بغیر کہا کہ مذکورہ رہنما مسلسل نیشنل کانفرنس کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کرتے رہے ہیں، اور اب ان کے خلاف بھی قانونی نوٹس بھیجنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔
دوسری جانب بی جے پی کے قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے الزامات جماعت کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والے، بے بنیاد اور ہتک آمیز ہیں۔ نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عمر عبداللہ تحریری طور پر اپنے الزامات واپس لیں، سات دن کے اندر غیر مشروط عوامی معافی مانگیں اور آئندہ اس نوعیت کے بیانات دینے سے گریز کریں۔
بی جے پی کا کہنا ہے کہ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں وزیر اعلیٰ کے خلاف دیوانی اور دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ادھر این ڈی اے کے اتحادی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے ورکنگ صدر پرفل پٹیل نے بھی وزیر اعلیٰ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے ہمیشہ جمہوری روایات کا احترام کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات کے بعد نیشنل کانفرنس سب سے بڑی جماعت بن کر اُبھری تھی اور اسے کانگریس کی حمایت حاصل تھی، اس لیے حکومت سازی میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی۔ ان کے بقول بی جے پی جمہوری عمل پر مکمل یقین رکھتی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس منعقدہ اسمبلی انتخابات کے بعد نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے اتحاد نے حکومت تشکیل دی تھی، جبکہ بی جے پی نے جموں خطے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ حالیہ مہینوں میں ریاستی درجے کی بحالی، اختیارات کی تقسیم اور مرکز و جموں و کشمیر حکومت کے تعلقات جیسے معاملات پر دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات مسلسل نمایاں ہوتے رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق تازہ تنازع نے دونوں جماعتوں کے درمیان جاری محاذ آرائی کو مزید تیز کر دیا ہے۔ اگر معاملہ عدالت تک پہنچتا ہے تو دونوں فریقوں کو اپنے اپنے مؤقف کے حق میں شواہد اور قانونی دلائل پیش کرنا ہوں گے، جس کے بعد ہی اس معاملے کی آئندہ سمت کا تعین ہو سکے گا۔





