امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 18 جولائی: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نئی دہلی کے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج میں صرف اسی صورت شریک ہوگی جب اس کا مقصد صرف ریاستی درجے (اسٹیٹ ہڈ) کی بحالی تک محدود نہ ہو بلکہ آرٹیکل 370 اور 35-اے کی بحالی، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور جموں و کشمیر کے آئینی و جمہوری حقوق کی بحالی بھی احتجاج کے مرکزی مطالبات میں شامل ہوں۔
محبوبہ مفتی نے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے نام ایک خط میں کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت بنیادی طور پر تبدیل کر دی گئی، اس لیے صرف ریاستی درجے کی بحالی موجودہ سیاسی مسائل کا مکمل حل نہیں ہو سکتی۔ ان کے مطابق عوام کے وقار، آئینی شناخت اور جمہوری حقوق کی بحالی کے لیے وسیع تر سیاسی جدوجہد ضروری ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ آرٹیکل 370 کی بحالی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کسی بھی مشترکہ سیاسی تحریک کے بنیادی نکات ہونے چاہئیں۔ محبوبہ مفتی نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ تمام علاقائی سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، تجارتی تنظیموں اور دیگر متعلقہ فریقوں کا ایک آل پارٹی اجلاس طلب کریں تاکہ جموں و کشمیر کے آئینی اور جمہوری حقوق کی بحالی کے لیے مشترکہ لائحۂ عمل تیار کیا جا سکے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ 2019 کے بعد من مانی گرفتاریاں، سرکاری ملازمین کی برطرفیاں، ذرائع ابلاغ پر پابندیاں، تعلیمی اداروں کی بندش اور ماحولیاتی مسائل نے عوام میں بے چینی کو بڑھایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر احتجاج صرف ریاستی درجے کی بحالی تک محدود رہا تو یہ ان بنیادی مسائل کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا۔
محبوبہ مفتی نے مجوزہ جنتر منتر احتجاج کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ پی ڈی پی اسی صورت میں اس تحریک کا حصہ بنے گی جب اس کا ایجنڈا آرٹیکل 370 کی بحالی، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور جموں و کشمیر کے عوام کی وسیع تر آئینی و سیاسی امنگوں کے حصول پر مرکوز ہوگا۔






