امت نیوز ڈیسک //
امریکہ نے اردن میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملے کے دوران دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ایران پر فضائی حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق یہ کارروائی صدر کے حکم پر کی گئی، جس کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنا اور امریکی افواج پر حملے کا جواب دینا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق تازہ امریکی حملوں میں کم از کم 50 افراد ہلاک جبکہ 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت میں واقع دو امریکی فوجی اڈوں کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ادھر ایرانی حکام نے خوزستان، ہرمزگان، قشم اور سریک سمیت مختلف علاقوں پر نئے امریکی حملوں کی اطلاع دی ہے، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی ساحلی علاقے عسلویہ کے قریب ایک امریکی ایم کیو-9 ریپر ڈرون مار گرایا گیا۔
ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے اعلان کیا ہے کہ ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد معطل کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے تجویز کردہ جنوبی راستے کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں موجود امریکی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے حامی گروہ امریکی مفادات اور شہریوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر خلیجی ممالک نے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں سے تحمل اور فوری مذاکرات کی اپیل کی ہے۔






