امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 19 جولائی : جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ میں اتوار کی صبح شدید بارشوں کے باعث آنے والے اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد، جن میں تین خواتین شامل ہیں، جاں بحق جبکہ متعدد افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق تمام اموات سب سے زیادہ متاثرہ تحصیل سرنکوٹ میں پیش آئیں، جہاں امدادی و بچاؤ کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، ملبہ ہٹانے اور فوری امداد فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔
نونہ بندی گاؤں میں 28 سالہ نازیہ کوثر اس وقت جاں بحق ہو گئیں جب شدید بارش کے باعث ان کا مکان منہدم ہو گیا۔ ان کے شوہر محمد حفیظ اور دو سے چھ سال عمر کے تین بچوں کو زخمی حالت میں نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا۔
دریں اثنا، لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے راجوری اور پونچھ اضلاع میں بارش اور سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو متاثرہ خاندانوں تک فوری امداد، بچاؤ اور راحتی سرگرمیاں یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
راج بھون کی جانب سے جاری بیان کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر نے سینئر افسران کے ساتھ اجلاس میں موجودہ صورتحال اور جاری ریسکیو کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ سول انتظامیہ، جموں و کشمیر پولیس، بھارتی فوج، ریاستی ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (SDRF) اور مقامی رضاکار جنگی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں، خصوصاً راجوری میں جہاں شدید بارشوں سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔
منوج سنہا نے بتایا کہ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ تمام متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ ریسکیو، امدادی سامان کی تقسیم اور بنیادی سہولیات کی بحالی کا عمل تیز کیا جا سکے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، حساس علاقوں میں جانے سے احتراز کریں اور انتظامیہ کی جانب سے جاری ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے راجوری اور پونچھ کے حویلی اور سرنکوٹ علاقوں میں جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ادھر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ محکمہ موسمیات کی وارننگ اور جموں ڈویژن میں پیدا ہونے والی سنگین صورتحال کے پیش نظر وہ دہلی سے جموں روانہ ہو رہے ہیں تاکہ زمینی صورتحال کا خود جائزہ لے سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاستی درجہ کی بحالی کے مطالبے پر مجوزہ احتجاج اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی قیادت میں جاری رہے گا۔






