اس بات کوکوئی نہیں نکار سکتا کہ بے پناہ وسائل کے باوجود اوقاف اسلامیہ جموں و کشمیر (وقف) مسلمانوں کی اُمیدوں اور توقعات پر کھرا اُترنے میں اب تک پوری طرح ناکام و نامراد ہے۔ حد یہ ہے کہ جن زیارت گاہوں سے وقف کو کرایہ اور عطیات کی صورت میں بھاری بھرکم ا ٓمدن حاصل ہورہی ہے ان زیارت گاہوں کے رکھ رکھاؤ پر مناسب توجہ دینے میں بھی یہ ادارہ پوری طرح ناکام ثابت ہورہا ہے جو کسی بڑے المیے سے کم نہیں ہے۔ اور تلخ سچائی یہ ہے کہ سرکار کی تحویل میں آنے کے باوجود یہ ملی ادارہ اپنی کارکردگی کو بہتر اور فعال بنانے میں اب تک پوری طرح ناکام ہے۔ جبکہ عوامی حلقوں کاماننا ہے کہ اگر اس ادارے کو دیانتداری کے ساتھ چلایا جائے تو وسائل اور املاک سے مالا مال یہ عظیم ملی ادارہ صحت،تعلیم ،صنعت و حرفت اور باغبانی جیسے شعبوں میں انقلاب لاسکتا ہے۔ لیکن یہاں زمینی صورتحال یہ ہے کہ اس ادارے میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں تک کا انحصار زیارت گاہوں سے عطیات کی صورت میں حاصل ہورہی آمدن پر ہے؛ اس سے بڑی شرمناک بات اور کیا ہوسکتی ہے۔ اس طرح کی زمینی صورتحال سے کلیجہ پھٹنے کو آتا ہے اورزی حس انسان کا سرشرم سے جھک جاتا ہے۔ اب جبکہ سرکار نے وقف کو چلانے کے لئے ایک بورڈ کا قیام عمل میں لایا ہے ،ضرورت اس بات کی ہے کہ بورڈ سیاست میں اُلجھنے کی بجائے اپنی ساری توجہ اس عظیم ملی ادارے کو فعال بنانے اور اسے عوام کے سامنے جوابدہ بنانے پر مرکوز کرے۔ اور ساتھ ہی اس ادارے کی شرمناک مایوس کُن کارکردگی پر ایک وائیٹ پیپر منظر عام پر لایا جائے تاکہ ایسے چہرے بے نقاب ہوجائیں جو مسیحا بن کر اس ادراے کو لوٹتے رہے ہیں۔( اداریہ، ہفت روزہ اُمت، 10 اکتوبر 2022)









