• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
منگل, جنوری ۲۷, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
مغربی ممالک کی کشمیر پر حالیہ بیان بازیاں ؟؟

مغربی ممالک کی کشمیر پر حالیہ بیان بازیاں ؟؟

یوکرین روس جنگ پر بھارت کی غیر جانبداری کا نتیجہ یا پھر کچھ اور......

by امت ڈیسک
14/10/2022
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

شاہد لطیف……

جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیئربوک کے کشمیر پر ثالثی کے حالیہ بیان اور اس سے قبل امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کے پاکستان کے زیر انتظام جموں وکشمیر کے دورے اور اس کو’’ آزاد کشمیر‘‘ نام سے پکارنے پر بھارت کی وزارت خارجہ کے سخت موقف اور مذمت کے بعد ہند و پاک میڈیا اور سیاسی حلقوں کے اندر ایک نئے مباحثے کو جنم دیا ہے کہ ایک بڑے عرصے تک کشمیر پر چپ سادھ لینے کے بعد آخر ایسا کیا ہوا ہے کہ امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک نے اس پٹارے کو ایک بار پھر کھول دیا ہے ۔ نئی اُبھرتی ہوئی اس صورت حال پر جہاں بھارت کا واضح، دوٹوک اور سخت مذمتی موقف سامنے آچکا ہے وہیں پر پاکستان میں میڈیا اور حکومت کے کچھ حلقے اسے سفارتی کامیابی متصور کرتے ہوئے اس پر بگلیں بجارہے ہیں۔ اگرچہ اس قسم کا موقف کو اختیار کرنا یا ایسے بیانات کا آنا کوئی حیران کن معاملہ نہیں ہے لیکن 5اگست 2019کے بعد جس قسم کی چپی تھی اس کو ان بیانات نے ضرور توڑ دیا ہے‘ جو واقعتاً حیران کن ہے ۔ حالیہ ایام میں بھارتی میڈیا اور سیاسی مبصرین نے بھی اس صورت حال پرکئی مضامین لکھے ہیں جن میں اس نئی صورت حال پر فکر و تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

قومی اور بین الاقوامی امور پر لکھنے والے ایک معروف کالم نگار اکشے نارنگ نے اپنے مضمون ’’یورپ کے مجروح غرور‘‘ کے زیرعنوان مضمون میں تحریر کیا ہے کہ ہندوستان کی تزویراتی خودمختاری مغرب کے لیے نگلناایک مشکل عمل ہے اوریوکرین کے بحران پر اس کا غرور زخمی ہوا ہے ، کشمیر پر ڈھیلے ریمارکس اسی کا شاخسانہ ہیں ۔ ساتھ ہی ان کا ماننا ہے کہ ان ریمارکس کا یورپ و امریکہ کرنے کا کوئی تزویراتی فائدہ نہیں ہونے والا ہے بلکہ اس سے دہلی میں مغرب کی نیک نیتی ہی شک کے دائرے میں آجائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ مغربی دنیا میں کشمیر کا بیانیہ واپسی کرتا نظر آرہا ہے جو اس بات کا عندیہ ہے کہ امریکہ، یوروپ اور بھارت کے درمیان سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے۔

حالیہ معاملات کا آغاز پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا دورہ کرنے اور اس علاقے کو’’آزاد جموں و کشمیر‘‘ سے موسوم کرنے کے ساتھ ہوا۔ مسٹر بلوم نے اس دورے کے بعد ٹویٹ کیا اور لکھا کہ’’ قائد اعظم میموریل ڈاک بنگلہ پاکستان کی ثقافتی اور تاریخی دولت کی علامت ہے اور جناح نے 1944 میں اس کا دورہ کیا تھا۔میرا آزاد جموں و کشمیر کے پہلے دورے کے دوران اس مقام کی زیارت کرنا ایک اعزاز کی بات ہے ۔‘‘ اس ٹویٹ کے بعد بھارتی حکومت نے اس پر کھل کر اپنی برہمی کا اظہار کیا ۔ اس کے معاً بعد جرمن وزیر خارجہ نے کشمیر میں اقوام متحدہ سے مداخلت کا مطالبہ کر دیا۔

بقول مسٹر نارنگ اگر یہ سرد جنگ کا دور ہوتا تو مغربی ردعمل کو سمجھنا آسان ہوتا۔ اس وقت ہندوستان کو مغرب کے خلاف کسی حد تک مخالف کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور پاکستان اس کے قریب ہوا کرتا تھا۔ لیکن یہ حیرت کی بات ہے کہ مغرب بتدریج کشمیر کے بیانیے کو اپنے ایجنڈے پر ایک ایسے وقت میں واپس لا رہا ہے جب ہندوستان اپنا عالمی اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے اور کشمیر خود2019 میں آرٹیکل370کی منسوخی کے بعد معمول کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ان کا مذید کہنا ہے کہ کشمیر کے ایجنڈے کو بحال کرنے کی جانب مغرب کے اس رجحان کی وجہ غالباً یورپ کا مجروح غرور اور مجبوری ہو سکتا ہے کیونکہ ٹرانس اٹلانٹک کی اس دنیا کا گرتا ہوا اثر و رسوخ اس کو مجبور کررہا ہے کہ یہ اپنے مفادات کے لئے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دے۔

دائیں بازو کی جانب جھکائو رکھنے والے ایک اور قلم کار جگناتھن کا اس ضمن میں یہ ماننا ہے کہ امریکہ کے ساتھ بھارت کی دوستی کبھی پائیدار نہیں ہوسکتی کیونکہ امریکہ ہمیشہ اس دوستی کو اپنے اغراض ہی کے لئے استعمال کرنے کا خواہاں رہتا ہے ۔ ان کے مطابق امریکہ اور پوروپ سے آنے والے حالیہ اشارے ظاہر کررہے ہیں کہ یہ ممالک بھارت کے ساتھ برابری یا جمہوری اقدار پر مبنی دوستی کو کوئی اہمیت نہیں دیتے بلکہ اصلاً یہ بھارت کے ازلی بدخواہ ہی ہیں۔ وجوہات گنواتے ہوئے مسٹر جگناتھن لکھتے ہیں کہ’’ انکل سام نے سب سے پہلے پاکستان کے ایف سولہ طیاروں کی تزئین و آرائش اور جدید کاری کے لیے 450ملین ڈالر کے پیکیج کا اعلان کیا ۔پھر، پاکستان میں امریکی ایلچی نے پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) کا دورہ کرنے کا اشارہ کیا اور اسے آزاد کشمیر کہا اور اب چند روز قبل امریکہ کے یورپی اتحادی جرمنی نے مسئلہ کشمیر کے حل میں اقوام متحدہ کے کردار کے امکان کا حوالہ دیا ۔ہو سکتا ہے کہ جرمنی کی کشمیر پر اپنی پالیسی ہو، لیکن یوکرین اور روس کے درمیان تنازعہ کے درمیان اس وقت اس مسئلے کو اٹھانے کی سب سے زیادہ ممکنہ وجہ امریکہ کی طرف سے کوئی اشارہ ہو سکتا ہے ۔یہ نتیجہ اخذ کرنا آسان ہے کہ یہ تمام منفی اشارے یوکرین جنگ پر ہندوستان کے آزادانہ موقف کی وجہ سے ہیں۔ یقینی طور پریہ ایک عنصر ہے ، لیکن امریکہ کے ہندوستان میں اور زیادہ طویل مدتی مقاصد ہیں جوکسی دوستی پر مبنی نہیں ہیں۔‘‘جگناتھن کے مطابق کم ازکم پانچ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے بھارت اور امریکہ کا رشتہ ہمیشہ چٹانی رہے گا، اور کیوںبھارت انکل سام کی دوستی کو ہلکے میں نہیں لے سکتاہے ۔ان کے مطابق امریکہ نے چین کو سابق سوویت یونین کے خلاف استعمال کرنے سے جو سبق سیکھا ہے وہ بہت سادہ ہے اور وہ یہ ہے کہ ایسے بڑے سائز کے ملک پر بغیر کسی سوال کے امریکی خارجہ پالیسیوں کی پشت پناہی کرنے پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔امریکہ بھارت کے ساتھ ایسی غلطی نہیں کرنا چاہتا جو کہ جلد ہی دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا اور2030 تک7-8 ٹریلین ڈالر کی معیشت ہو جائے گی۔لہٰذا، امریکہ کی پالیسی ہندوستان کی اٹھان کی رفتار کو کم کرنے کی ہو گی، اور اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان جیسے ممالک کے ساتھ دوستی کی جائے اوران دونوں ممالک کے درمیان موجود فساد سے فائدہ اٹھایا جائے ۔ان کا مذید کہنا ہے کہ امریکہ ایسی صورتحال نہیں چاہتا جہاں یورپ، چین اور بعد میں ہندوستان اس کی بالادستی کو چیلنج کرتے ہوئے فوجی سپر پاور بن جائیں۔ اسی لئے یورپ کو حالت جنگ میں رکھنا، اور ہندوستان کو حاشیے پر رکھ کر امریکہ اپنے مفادات کی دیکھ ریکھ میں مصروف ہے ۔پاکستان کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانے کا ایک مقصد دراصل دروازے میں پاؤں رکھنا ہے جہاں سے ہندوستان کو کنارے پر اور چینیوں کو کسی بھی قسم کی براہ راست مخاصمت سے دور رکھنا ممکن ہو۔ حالانکہ امریکہ بذات خود ایک براعظم ہے ، لیکن ایشیا اور افریقہ کے عروج کے ساتھ ہی اس کی طاقت ختم ہونے لگے گی۔علاوہ ازیں ہندوستان کو غیر متوازن رکھنے کی اپنی طویل مدتی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے امریکہ کی ڈیپ اسٹیٹ ،جس کا مطلب اس کی عالمی نگرانی کرنے والی ایجنسیاں، اس کی بیوروکریسی، اس کے تعلیمی ادارے ، اس کے انسانی حقوق کے نگراں ادارے ، اور اس کا میڈیا وغیرہ ہے ، اس بات کو یقینی بنانے میں مصروف کارہیںکہ ہندوستان مسلسل طور پر غیر مستحکم رہے ۔جگناتھن کا کہنا ہے کہ ہندوستانی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کیوں کر امریکہ ہمارے ساتھ موسمی دوستی کارویہ اپنائے رکھتا ہے ۔ کیوں امریکہ چین کو روکنے کے لئے ہمارے ساتھ طویل مدتی شراکت داری کا خواہاں نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ انکل سام کے اس قسم کا دوست ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے ۔کیونکہ بقول امریکی مصنف ہنری کسنجر ’’امریکہ کا دشمن بننا خطرناک ہو سکتا ہے ، لیکن دوست بننا اس سے بھی زیادہ مہلک ہے ‘‘۔

امریکہ اور جرمنی کے حالیہ یو ٹرن پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ایک سیاسی مبصر کا کہنا ہے کہ9/11 کے حملوں کے بعد امریکہ نے پاکستان کے تئیں اپنی دیرینہ پالیسی کو بدل کر بھارت کے ساتھ تزویراتی شراکت داری کا دور شروع کیا تھا۔ امریکہ کا اس شراکت داری سے اولین مقصد چین کی اُڑان پر لگام کس کر اسے قابو میں رکھنا تھا۔اسی اثنائ میں چین کا’’ ون بیلٹ ون روڑ‘‘ کا منصوبہ پاکستان میں’’ سی پیک ‘‘بن کر وارد ہوا جس نے امریکہ کی بے چینی اوربھارت پسندی کو بڑھادیا۔چین پر لگام کسنے اور پاکستان کو سزا دینے کے مقصد کی تکمیل کے لئے امریکہ نے کشمیر پر اپنی برسوں پرانی پالیسی کو بھی بدل دیا اور5 اگست2019 کے بعد کشمیر میں رونما واقعات پر بھی بظاہر بھارت کا ہی ساتھ دیا۔ چین اس صورت حال کو دیکھ رہا تھا اور اس کے مضمرات سے بخوبی واقف تھا۔ اس نے بھارت کے ساتھ پہلے بوٹان کے راستے اور پھر لداخ میں گلوان ویلی وغیرہ کی جانب پیش قدمی کی اور بقول کانگریس لیڈر راہول گاندھی مبینہ طور پر بھارتی علاقوں پر قبضہ جمادیا۔لیکن بھارت کی آج تک کی غالباً مضبوط ترین حکومت نے جس طرح سے چین کے مبینہ ناجائز قبضے پر چپ سادھ لی اس نے امریکیوں کے ہوش اُڑادئے اور انہیں احساس دلایا کہ بھارت چین کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے! دوسری جانب روس، چین ،ترکی، ملیشیائ،ایران اور پاکستان کے اشتراک کی رو چل پڑی جس کو بظاہر عمران خان آگے بڑھارہے تھے ۔ امریکہ جانتا تھا کہ یہ عمران خان کا نہیں بلکہ پاکستانی فوج کی جانب سے ’’پالیسی شفٹ ‘‘ہورہا ہے جس کا مطلب یہ تھا کہ امریکہ ایک ایسی فوجی قوت کو کھو رہا تھاجس کے لئے اس نے قریب 70 سال تک سرمایہ کاری کی تھی۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پاکستان کو کھو دینے کا مطلب دراصل عالم اسلام کے ممالک سے دوریاں بڑھانا تھا جو امریکی مفادات کے لئے کوئی اچھی بات نہیں ہے ۔ پاکستان کے ذریعے چین کے ساتھ رابطہ رکھنے اور چین کے تئیں ضروری دوری بنائے رکھنا کا مفاد بھی امریکیوں کے ہاں واضح ہے اور یہی وجہ ہے کہ حالیہ ایام میں امریکہ ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بحال کرنے کا خواہاں ہے اور ظاہر ہے ایسا کرنے کے لئے کشمیر کارڈ کھیلنا سب سے آسان اور مفید ذریعہ ہوا کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ خود پاکستان کے اندرحالیہ خوش بیانیوں پر کوئی بڑا ردعمل ظاہر نہیں کیا جارہا ہے ۔ اس حوالے سے روزنامہ ’’ڈان‘‘ میں شائع شدہ ایک تجزیے میں کہا گیاکہ پاکستان میں کئی حلقوں نے اس پیش رفت کو ایک طرح کی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کیا ہے لیکن یہ ضرروی ہے کہ اس دورے اور اس بیان کا سیاق و سباق نظر انداز نہ کیا جائے ۔بھارت اور جرمنی میں بطور پاکستانی سفیر خدمات سرانجام دینے والے عبدالباسط نے کہا کہ’’جرمن وزیر خارجہ کا بیان مسئلہ کشمیر پر جرمنی کے مؤقف سے دستبرادری کا اشارہ نہیں لیکن اس بار ترکیب مختلف اور بھارت کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہے ۔‘‘

یوکرین تنازع پر بھارت کے مؤقف کے حوالے سے مغربی ممالک کے اظہار برہمی اور مایوسی کے بعد جرمن وزیر خارجہ کا یہ بیان اور اس سے قبل امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کا پاکستانی زیر انتظام کشمیر کادورہ، بھارت کے لیے دھچکا ثابت ہوسکتا ہے جس نے اس بیان اور دورے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے ۔جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیئربوک کے ریمارکس پر اعتراض کرتے ہوئے ترجمان بھارتی وزارت خارجہ ارندم باگچی نے کہا کہ’’ عالمی برادری میں شامل تمام سنجیدہ ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ بین الاقوامی دہشت گردی اور خاص طور پر سرحد پار دہشت گردی کی مذمت کریں۔‘‘دریں اثنا زیادہ تر مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ مغرب کی جانب سے یہ اقدامات حقیقت سے زیادہ محض بیان بازی پر مبنی ہیں۔امریکا، برطانیہ اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابق مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کی نظر میں جرمن وزیر خارجہ کا یہ بیان اور امریکی سفیر کا دورہ کشمیر کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے ۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا جرمنی اور دیگر مغربی ممالک نے کبھی بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی مظالم پر بات کی ہے ؟انہوں نے کہا کہ ’’ کشمیر میں آبادیاتی تبدیلی پر ایک لفظ بھی نہیں بولا گیا، کیا وہ اسے روکنے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالیں گے ؟‘‘دوسری جانب سفیر عبدالباسط نے بھی پاکستانیوں کو تجویز دی ہے کہ وہ اسے محض بیان اور اس سے زیادہ نہ سمجھیں۔خود کشمیر کے اندر بھی اس نئی صورت حال پر عوامی حلقوں کے اندر صفر جبکہ سیاسی ومیڈیائی حلقوں کے اندر محتاط ہل چل دکھائی دی ہے ۔ وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق کشمیر میں بعض حلقے اسے اپنی تائید سے زیادہ عالمی حالات کا شاخسانہ سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ نئی صورت حال کوئی پائیدار معاملہ نہیں بلکہ امریکہ اور پوروپ کی جانب سے صرف بھارت کو روس کے تئیں پالیسی بدلنے کے لئے دبائو کا نتیجہ ہے ۔امریکی تھنک ٹینک ولسن سینٹر میں ڈائیرکٹر سائوتھ ایشیا انسٹیچوٹ مسٹر مائیکل کوگل مان کے مطابق پاک امریکہ تعلقات میں حالیہ گرم جوشی کا لینا دینا یوکرین پر بھارتی موقف سے زیادہ خود پاکستان اور اس کے حوالے سے مختلف عوامل کے ساتھ ہے ۔کوگل مان کے مطابق امریکہ کی سوچ دور رس ہے جس کا مقصد امریکی مفادات کے لئے طویل مدتی پروگرام مرتب و مربوط کرنا ہے اور پاکستان اس حوالے سے ایک اہم شراکت دار ہے ۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

حکومت کی جانب سے 36 پولیس اہلکاروں کی قبل از وقت سبکدوشی کا حکم

Next Post

وقف بورڈ عوام کی اُمیدوں پر کھرا اُترنے میں ناکام کیوں؟

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

محبوبہ مفتی کا اینٹی لینڈ ایویکشن بل اسمبلی  میں پیش کرانے کا اعلان

محبوبہ مفتی کی بابا بلھے شاہ کے مزار کی توڑ پھوڑ کی شدید مذمت، بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا

27/01/2026
سری نگر ہوائی اڈے پر برفباری سے پروازیں متاثر، انڈیگو اور ایئر انڈیا کی تمام پروازیں منسوخ، مزید منسوخیوں کا خدشہ

سری نگر ہوائی اڈے پر برفباری سے پروازیں متاثر، انڈیگو اور ایئر انڈیا کی تمام پروازیں منسوخ، مزید منسوخیوں کا خدشہ

27/01/2026
موہن بھاگوت کے بیان پر آرایس ایس کی وضاحت

ہندو سماج کو تین بچے پیدا کرنے سے کسی نے نہیں روکا : موہن بھاگوت

26/01/2026
یومِ جمہوریہ محض پریڈز تک محدود نہیں ہونا چاہیے، آئین کا تحفظ ضروری: محبوبہ مفتی

یومِ جمہوریہ محض پریڈز تک محدود نہیں ہونا چاہیے، آئین کا تحفظ ضروری: محبوبہ مفتی

26/01/2026
جموں و کشمیر میں یوم جمہوریہ تقریب کا انعقاد، ایل اجی منوج سنہا کا یوٹی کی سلامتی اور ترقی پر زور

جموں و کشمیر میں یوم جمہوریہ تقریب کا انعقاد، ایل اجی منوج سنہا کا یوٹی کی سلامتی اور ترقی پر زور

26/01/2026
پاکستان کی کشمیر کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں ناکام: نائب وزیر اعلیٰ

پاکستان کی کشمیر کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں ناکام: نائب وزیر اعلیٰ

26/01/2026
Next Post
وقف بورڈ عوام کی اُمیدوں پر کھرا اُترنے میں ناکام کیوں؟

وقف بورڈ عوام کی اُمیدوں پر کھرا اُترنے میں ناکام کیوں؟

وادی کشمیر : ’پیروں کی وادی سے اُڑتا کشمیر تک‘

وادی کشمیر : ’پیروں کی وادی سے اُڑتا کشمیر تک‘

نقل کے لیے قلموں پر نصاب چھاپنے والا طالب علم

نقل کے لیے قلموں پر نصاب چھاپنے والا طالب علم

کراچی میں چھینا گیا موبائل قطر پہنچ گیا، ڈاکوؤں کی سیلفیاں وائرل

کراچی میں چھینا گیا موبائل قطر پہنچ گیا، ڈاکوؤں کی سیلفیاں وائرل

میں ایک بھارتی مسلمان ہوں، چینی مسلمان نہیں: فاروق عبداللہ

میں ایک بھارتی مسلمان ہوں، چینی مسلمان نہیں: فاروق عبداللہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »