امت نیوز ڈیسک //
ممبئی:جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے ملک میں مسلمانوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک پر مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہمیں کشمیر سے کنیا کماری تک ملک کو متحد رکھنا ہے۔ میں ایک مسلمان ہوں، لیکن ایک بھارتی مسلمان، میں چینی مسلمان نہیں ہوں۔ انہوں نے یہ باتیں جمعرات کو ممبئی میں چھگن بھجبل کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک پروگرام کے دوران کہیں۔ اس پروگرام میں شرکت کرنے والے رہنماوں میں شیوسینا کے ادھو ٹھاکرے، نغمہ نگار جاوید اختر اور این سی پی رہنما اجیت پوار شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ کشمیر سے کنیا کماری تک ہمیں ملک کو ایک رکھنا ہے۔ میں ایک مسلمان ہوں، لیکن ایک بھارتی مسلمان، میں چینی مسلمان نہیں ہوں۔ انہوں نے مزید کہاکہ ہر کوئی مختلف نظریات کا حامل ہو سکتا ہے، لیکن ہم مل کر اس ملک کو بنا سکتے ہیں اور اسی کو دوستی کہتے ہیں۔ مذہب لوگوں کو ایک دوسرے سے نفرت کرنا نہیں سکھاتا۔ یہ بھارت ہے اور یہ سب کا ہے۔
فاروق عبداللہ کا یہ تبصرہ دہلی میں ایک تقریب میں بی جے پی کے دو رہنماوں کی مبینہ طور پر نفرت انگیز تقاریر کے چند دن بعد آیا ہے جس میں انہوں نے ایک کمیونٹی کے ‘مکمل بائیکاٹ’ کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ بیان بی جے پی کے رکن پارلیمان پرویش ورما نے یکم اکتوبر کو نئی دہلی میں 25 سالہ منیش کے قتل کے بعد 9 اکتوبر کو وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) اور بجرنگ دل کی جانب سے منعقدہ ایک پروگرام میں دیا۔ اس بیان کے بعد اپوزیشن رہنماوں نے اس بیان کو خطرناک قرار دیتے ہوئے بی جے پی پر تنقید کی۔ کانگریس نے اس متنازعہ بیان پر کہا تھا کہ پی ایم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں؟ دوسری طرف راشٹریہ جنتا دل کے صدر لالو پرساد یادو نے بی جے پی پر سماج کو فرقہ وارانہ بنانے اور آئین کو تباہ کرنے کا الزام لگایا۔








