امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: پی ڈی پی صدر اور جموں کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ضلع شوپیاں میں پولیس کی طرف سے ہلاک کیے گئے مبینہ ہائی برڈ عسکریت پسند عمران بشیر گنائی کی ہلاکت پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔محبوبہ مفتی نے سرینگر میں پارٹی دفتر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پنڈت پورن بھٹ اور غیر مقامی مزدوروں کی ہلاکتیں مذمت خیز ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس نے عمران بشیر گنائی کو ہائی برڈ عسکریت پسند ہونے کے الزام میں گرفتار کیا اور آج کہا کہ ان کو عسکریت پسندوں نے ہلاک کیا۔ انہوں نے پولیس کو سوال کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بتائے کہا کہ پولیس حراست میں کیسے مذکورہ نوجوان عسکریت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہوا اور اس معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ کہیں انتظامیہ یہاں ریاست پنجاب میں جو نوے میں "کیچ اینڈ کل“ پالیسی لاگو کی تھی یہاں بھی اس کو اپنایا جارہا ہے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ جوں ہی گجرات اور ہماچل پردیش میں اسمبلی انتخابات نزدیک آئیں گے کشمیر میں صورتحال خراب کی جائے گی تاکہ حکمران جماعت کو اس کا فائدہ انتخابات میں ملے۔قابل ذکر ہے کہ ضلع شوپیاں کے حرمین گاؤں میں پیر کی رات مشتبہ عسکریت پسندوں نے گرینڈ حملے میں دو غیر مقامی مزدوروں کو ہلاک کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس ضمن میں ایک مقامی نوجوان عمران بشیر گنائی کو گرفتار کرکے اس کو ہائبرڈ عسکریت قرار دیا۔
وہیں پولیس نے آج صبح ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ حرمین شوپیاں میں دو غیر ریاستی مزدوروں کی ہلاکت کے معاملے میں گرفتار کیے گئے مبینہ ہائی برڈ عسکریت پسند عمران بشیر گنائی کے انکشاف پر سکیورٹی فورسز نے نوگام شوپیاں علاقے میں ایک تلاشی آپریشن شروع کیا جس کے دوران ایک کمین گاہ میں موجود عسکریت پسندوں کی فائرنگ سے عمران بشیر گنائی ہلاک ہوگیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کمین گاہ/ جائے تصادم سے ہتھیار بھی برآمد کیے ہیں۔











