سرینگر//چین نے پاکستان میں مقیم لشکر طیبہ کے سربراہ شاہد محمود کو اقوام متحدہ میں عالمی ”دہشت گرد “فہرست میں شامل کرنے کی بھارت کی تجویز کو مسترد کردیا ہے ۔ گزشتہ کئی ماہ میں چین کی جانب سے یہ چوتھا موقع ہے جب بھارت کی جانب سے کسی شخص کے خلاف اقوام متحدہ میں پابندی لگانے کی تجویز کو مسترد کردیا گیا ہے ۔ اگر چین بھی بھارتی تجویز کی حمایت کرتا ہے تو جن اشخاص پر عالمی دہشت گردی قوانین کے تحت پابندی لگائے جاتی ہے اس کو نہ صرف سفری پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ اس کی تمام جائیداد کو ضبط کرکے اس کی گرفتاری بھی عمل میں لائی جاسکتی ہے- چین نے بھارت کی جانب سے پاکستان میں مقیم لشکر طیبہ کے سربراہ شاہد محمود کو اقوام متحدہ میں عالمی دہشت گرد کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز کو روک دیا ہے۔یہ چوتھا کیس ہے کہ چین نے دہشت گردوں کو بلیک لسٹ کرنے سے انکار کیا ہے۔درحقیقت، چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1267 القاعدہ پابندیوں کی کمیٹی کے تحت محمود کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی ہندوستان کی تجویز کو روک دیا تھا۔ کئی مہینوں میں یہ چوتھا موقع ہے کہ چین نے پاکستان میں مقیم دہشت گردوں کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی تجاویز کو بلاک کیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے دسمبر 2016 میں محمود کو عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا۔پاکستان کو چین کی دہشت گردی کی کھلی حمایت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ 26/11 ممبئی حملوں سمیت دہشت گردی کے تمام واقعات میں ملوث دہشت گردوں کو اقوام متحدہ کی قرار دی گئی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے میں رکاوٹیں ڈالتا رہتا ہے۔ اسی طرح جب ساجد میر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی بات آئی تو چین نے پھر اسے روک دیا۔اگر 1267 کمیٹی کسی کو بین الاقوامی دہشت گرد یا دہشت گرد تنظیم قرار دیتی ہے تو تمام ممالک اس کے خلاف سخت رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اس شخص یا تنظیم کے لوگوں کے بیرون ملک سفر پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ گرفتاری کے حکم کے ساتھ ان کی جائیداد بھی ضبط کی جا سکتی ہے۔









