امت نیوز ڈیسک //
سرینگر:پی ڈی پی صدر اور جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو لیفیٹنٹ گورنر انتظامیہ نے 15 نومبر تک سرینگر کے گُپکار میں الاٹ سرکاری رہائش گاہ کو خالی کرنے کی آخری نوٹس ارسال کی ہے۔
محکمہ اسٹیٹس کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے محبوبہ کی رہائش گاہ پر نوٹس چسپاں کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر اس بنگلے پر قبضہ کیا ہے، لہذا وہ 15 نومبر تک اسے خالی کرے.
یاد رہے کہ محبوبہ مفتی سرینگر میں پوش علاقے گُپکار میں گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے سرکاری بنگلے "فئر ویو” میں رہائش پذیر ہیں۔اس سرکاری بنگلے کو سنہ 2005 میں ان کے والد مرحوم مفتی سعید کو بطور وزیر اعلیٰ رہنے کے لیے محکمہ اسٹیٹس نے الاٹ کیا تھا۔
محکمہ اسٹیٹس کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے نوٹس میں محبوبہ مفتی سے مخاطب ہوکر کہا کہ جموں و کشمیر تنظیم نو قانون 2020 کے مطابق سرکار نے سابق وزراء اعلیٰ کو بغیر کرایہ کے سرکاری رہائش گاہ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے مطابق وہ اس بنگلے میں غیر قانونی طور پررہائش پذیر ہیں۔قابل ذکر ہے کہ مذکورہ محکمے نے محبوبہ مفتی کو رواں ماہ کی 15 تاریخ کو نوٹس دی تھی کہ وہ رہائش گاہ کو خالی کرے۔ تاہم محبوبہ مفتی نے اسٹیٹس کو اس بنگلے کو چھوڑنے کا جوابی وجوہات دے دیا تھا۔ تاہم محکمہ نے ان کے جوابوں کو ناقابل قبول قرار دے کر اس رہائش گاہ کو خالی کرنے کی آخری نوٹس جاری کی۔ اس سے پہلے بھی محبوبہ مفتی کو سنہ 2020 میں بھی مذکورہ محکمے نے اس بنگلے کو خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔
واضح رہے کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد محبوبہ مفتی مرکزی سرکار کو دفعہ 370 کی منسوخی اور جموں و کشمیر کو دو یوٹیز میں تقسیم کرنے کی سخت مخالفت کر رہی ہے۔محبوبہ مفتی آئے روز مرکزی سرکار اور جموں کشمیر انتظامیہ کی فیصلوں کی سخت تنقید کر رہی ہے۔
بتادیں کہ سنہ 2020 میں سابق وزیر اعلیٰ و نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے بھی انتظامیہ کی ہدایت کے بعد گُپکار میں سرکاری رہائش گاہ کو خالی کرکے اپنے والد فاروق عبداللہ کی رہائشن گاہ میں پناہ لی۔







