امت نیوز ڈیسک//
شوپیاں:ضلع انتظامیہ شوپیاں نے اس خبر کی تردید کی جس میں کہا گیا ہے کہ جنوبی کشمیر کے شوپیاں ضلع کے چھودری گنڈ علاقے سے 10 کشمیری پنڈت خاندانوں اپنا گاؤں چھوڑ کر جموں کی اور ہجرت کی۔
ضلع انتظامیہ شوپیاں نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے بتایا کہ موسم سرما کی آمد اور فصلوں کی کٹائی کے بعد دس کشمیری پنڈت خاندان وادی کشمیر سے صوبہ جموں کے لیے روانہ ہوئے تاکہ وہ موسم سرما جموں میں گزار سکیں کیونکہ وادی کشمیر میں موسم سرما میں کافی زیادہ ٹھنڈ رہتی ہے۔
ضلع انتظامیہ شوپیاں نے بتایا کہ 26 اکتوبر کو خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے خبر کی،جس کا عنوان "10 کشمیری پنڈت خاندان شوپیاں میں اپنا گاؤں چھوڑ کر چلے گئے”۔یہ خبر سراسر غلط ہے اور اس میں غلط معلومات دی گئی ہے۔
انتظامیہ کے پریس نوٹ کے مطابق اس خبر کو کشمیر امیجز اور کشمیر آبزرور اخبارات کی طرف سے بھی شائع کیا گیا ہے اور اس میں جو دعوی کیا گیا وہ سراسر بے بنیاد اور جعلی ہے۔
ضلع انتظامیہ شوپیاں نے واضح کیا کہ چھودری گنڈ گاؤں میں کشمیری پنڈتوں کی رہائش گاہوں اور دیہاتوں میں مناسب اور مضبوط حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ضلع انتظامیہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ موسم سرما کے آغاز اور فصل کی کٹائی کا وقت ختم ہونے کے بعد بہت سے پنڈت خاندان جموں کی طرف روانہ ہوتے ہیں تاکہ سردی کے ایام وہ جموں میں گزار سکیں۔
بتادیں کہ بتادیں کہ شوپیاں ضلع کے چودھری گنڈ گاؤن میں 15 اکتوبر کے روز مشتبہ عسکریت پسندوں نے ایک کشمیری پنڈت پورن کرشن بھٹ پر گولیاں برسا کر شدید زخمی کر دیا۔ کشمیری پنڈت کو فوری طور زخمی حالت میں نزدیکی ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر فوت ہو گیا۔









