امت نیوز ڈیسک //
سرینگر///اے پی ایل اور بی پی ایل ،پی ایچ ایچ کے صارفین کو مٹی کے تیل سے محروم رکھ کر سرکار نے صرف اے اے وائی(اننت دھیا یوجنا ) کے صارفین کو ہی مٹی کا تیل فراہم کیا جارہا ہے جو کہ فی لیٹر 90روپے کے حساب سے انہیں دیا جائے گا تاہم رواں برس اب تک وادی کشمیر میں کسی بھی جگہ کسی بھی مٹی کے تیل ڈیپو پر کسی بھی صارف کو مٹی کا تیل فراہم نہیں کیا گیا ہے ۔ وادی کشمیر میں مٹی کے تیل کو نایاب کردیا گیا ہے اور سرکار صرف اب غریبی کی سطح سے زندگی بسر کرنے والے کنبوں یعنی (اے اے وائی) راشن کارڈ ہولڈروں کےلئے ہی مٹی کا تیل دستیاب رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ یہ صارفین مٹی کا تیل حاصل کرکے اپنا کام چلاسکیں تاہم ان کو مٹی کا تیل فی لیٹر 90روپے کے حساب سے فروخت کیا جائے گا اس پر ستم ظریفی یہ کہ اس قدر مہنگے تیل کا کہیں پر نام و نشان بھی موجود نہیں ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ مارچ 2022سے اب تک ڈیلران کو ایک بھی لیٹر تیل فراہم نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے کیروسین ڈیلران بھی پریشان ہوچکے ہیںکیوں کہ سرکار نے کہا کہ کیروسین ڈیلران کےلئے یہ روزگار ہے لیکن اگر یہی روزگار ہے تو ہمارے کنبے فاقہ کشی پر مجبور ہوں گے ۔ اس سلسلے میں کیروسین ڈیلران ایسوسی ایشن نے کہا کہ انہوں نے اس ضمن میں مشیر بھٹناگر اور چیف سیکریٹری سے بھی بات کی تھی جنہوںنے اس بارے میں اقدامات اُٹھانے کا یقین دلایا تھا لیکن ابھی تک اس سلسلے میں نہ تو ڈیلران کو تیل فراہم کیا گیا اورناہی صارفین کو تیل فراہم کرنے کےلئے کوئی بات کی گئی ۔ ادھر صارفین نے سرکار سے اپیل کی ہے کہ وہ متعلقہ صارفین کو فوری طور پر مٹی کا تیل فراہم کرنے کےلئے اقدامات اُٹھائیں۔










