امت نیوز ڈیسک //
سرینگر:جموں کشمیر پولیس نے میڈیا اور سوشل میڈیا پوٹلز کو مشورہ دیا ہے کہ نامعلوم افراد کی جانب سے صحافیوں کو دھمکیاں دینے کے معاملے پر ذرائع ابلاغ میں بحث و مباحثے کرنے سے گریز کریں ۔
کشمیر پولیس کی طرف سے میڈیا کو تنبیہسرینگر پولیس نے ٹویٹر پر صحافیوں کو متنبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں سے کئی سوشل میڈیا پوٹلز اس معاملے پر غیر ذمہ دارانہ اور سنسنی خیز تبصرے اور بحث و مباحثے کر رہے ہیں جس سے مذکورہ صحافیوں کی جان کو خطرے لاحق ہے۔پولیس نے میڈیا کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملے میں مذکورہ صحافیوں کے نام ظاہر کرنے سے گریز کرے۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں سے سوشل میڈیا پر وادی کے کچھ میڈیا اداروں اور صحافیوں کے متعلق دھمکی آمیز مواد شائع کیا جارہا ہے جس سے صحافیوں میں خوف و ہراس پیدا ہوا ہے۔
اس معاملے میں اگرچہ پولیس نے شیر گڈی تھانے میں مقدمہ درج کیا ہے اور پولیس کے مطابق چند مشکوک افراد سے پوچھ گچھ بھی کی جاچکی ہے تاہم تین صحافیوں اور ایک میڈیا ادارے کے دو ملازمین نے خوف کے سبب استعفی دیا ہے۔واضح رہے کہ کہ گزشتہ روز سرینگر سے شائع ہونے والے ایک انگریزی اخبار کے لیے کام کرنے والے پانچ نوجوان صحافیوں نے اس وقت استعفیٰ دے دیا جب لشکر طیبہ سے منسلک دی رسسٹینس فرنٹ نے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا جس میں کشمیر نشین 21 صحافیوں کو "فوجی ایجنٹ اور مخبر” قرار دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی قانون یو اے پی اے کے تحت ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔









