امت نیوز ڈیسک//
سال 2022 اختتام کو پہنچ رہا ہے اس سال میں ایسے کون سے واقعات تھے جو جموں و کشمیر کے حال اور مستقبل کے حوالے سے دوررس اثرات کا مؤجب بن سکتے ہیں۔ آئیے نظر ڈالتے ہیں جموں و کشمیر میں سال 2022 کے ان اہم واقعات پر جو اخبارات کی شہ سرخیوں، مباحث اور تجزیات کا موضوع بنے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے 24 اپریل یعنی پنچایتی راج دیوس کے موقع پر جموں کا دورہ کیا ۔ دورے کے دوران وزیر اعظم نے کئی منصوبوں کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد ڈالا۔ پی ایم مودی نے اس موقع پر ضلع سانبہ کے پیلی گاؤں میں ملک کی پنچایتوں سے خطاب بھی کیا اس روز جموں و کشمیر کے تقربیا تمام پنچایتی ممبران نے مودی کی ریلی میں شرکت کی۔
ٹورازم سال 2022:
جموں وکشمیر میں سیاحتی اعتبار سے سنہری اور تاریخی قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ اس مرتبہ گزشتہ برسوں کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد پیدا شدہ صورتحال اور پھر کورونا کی بحرانی صورتحال سے سیاحتی شعبہ ابتر حالت سے گزر رہا تھا تاہم اب اس شعبے میں پھر سے جان سی آگئی ہے۔ ۔محکمہ سیاحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2022 میں کم و بیش 22لاکھ سیاحوں نے وادیٔ کشمیر کا رخ کیا جن میں 19ہزار کے قریب بین الاقوامی سیاح بھی شامل ہیں۔
ٹارگیٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ:
سال 2022 میں جموں و کشمیر میں ٹارگیٹ کلنک سکیورٹی فورسز کے لیے بڑا چلینج بن گیا ہے۔ اس سال کشمیر میں مشتبہ عسکریت پسندوں کی جانب سے 19 ٹارگیٹ کلنک کے واقعے انجام دیے گئے ہیں ۔ٹارگیٹ کلنک میں امسال19 افراد نے جان گنوا دی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مرنے والوں میں سب سے زیادہ افراد مسلم فرقے سے تعلق رکھتے تھے جبکہ 6 غیر ریاستی افراد اور تین مقامی کشمیری پنڈت شامل بھی تشدد کی بھینٹ چڑھ گئے۔
فلاح عام ٹرسٹ کے اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں بند:
فلاحی اداروں پر پابندیلیفٹننٹ گورنر انتظامیہ نے اس سال ممنوعہ سیاسی و سماجی تنظیم جماعت اسلامی سے منسلک فلاح عام ٹرسٹ کے تحت چلنے والے اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں بند کرنے کا حکم صادر کیا۔حکام کے مطابق یہ ٹرسٹ سیاسی اور سماجی تنظیم جماعت اسلامی کا ایک ذیلی ادارہ ہے جس پر 2017 میں پابندی عائد کی گئی تھی۔ ان اسکولوں میں تقربیاً ایک لاکھ طلبہ زیر تعلیم تھے اور 5 ہزار سے زیادہ اساتذہ تدریسی کام انجام دے رہے تھیں۔ ان تمام طلبہ کو مقامی اسکولوں میں داخلہ دیا گیا۔
جماعت اسلامی کی جائیدادیں منسلک:
جموں کشمیر انتظامیہ نے اس سال کالعدم مذہبی و سیاسی تنظیم جماعت اسلامی کے نام پر درج کئی جائیدادوں کو یو اے پی اے قانون کے تحت ضبط کیا۔ ریاستی تحقیقاتی ایجنسی نے 188 مقامات پر جماعت اسلامی کے نام پر درج زمین اور جائیدادوں کی نشان دہی کی ہے اور اس سلسلے میں تقریباً 100 سے زائد جائیدادیں ضبط کی گئی ہے۔
امرناتھ یاترا:
ہر سال کی وسط میں شروع ہونے والی امرناتھ یاترا امسال پرُامن انداز طریقے میں اختتام پذیر ہوئی۔کووڈ19 کی وجہ سے معطل رہنے کے بعد امرناتھ یاترا دو برس بعد شروع ہونے والی تھی۔حکومت کی جانب سے دعوی کیا گیا تھا کہ 2022 میں پہلی بار یاتریوں کی ریکارڈ توڑ آمد ہوگی اور امسال تقریباً 6 لاکھ یاتریوں کی آمد متوقع تھی، تاہم اس یاترا میں صرف 3 لاکھ 65 ہزار یاتریوں نے امرناتھ گُپھا کے درشن کئے۔ اس سال 8 جولائی کو امرناتھ گپھا کے قریب بادل پھٹ جانے کا ایک دلدوز واقع پیش آیا، جس دوران 16 یاتریوں کی موت واقع ہوئی اور پچاس سے زائد یاتری لاپتہ ہو گئے تھے جنہیں ریسکیو آپریشن کے دوران بازیاب کیا گیا۔ اس کے علاوہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سالانہ امرناتھ یاترا کے دوران مختلف قدرتی وجوہات کی وجہ سے 42 یاتریوں کی موت واقع ہوئی تھی۔
جموں و کشمیر کی متنازع حد بندی مشق مکمل:
جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کے تحت اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کیا گیا۔ سابقہ ریاست جموں و کشمیر میں 111 نشستیں تھیں، کشمیر میں 46، جموں میں 37، اور لداخ میں چار، اس کے علاوہ 24 نشستیں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے لیے مخصوص تھیں۔جموں و کشمیر میں نئے اسمبلی حلقوں کے قیام کےلیے حد بندی کمیشن نے جموں و کشمیر کی نئی حد بند مکمل کی۔ نئی حد بندی میں جموں صوبے کے لیے چھ جبکہ کشمیر صوبے کے لیے ایک نئے اسمبلی حلقے کا قیام کیا گیا۔
کمیشن نے اس بار درج فہرست قبائل اور ذاتوں کی آبادیوں کے لئے نو اور سات سیٹوں کو مخصوص رکھا ہیں۔اس نئی حدبندی سے جموں میں سیٹوں کی تعداد 43 جبکہ وادی کشمیر میں 47 ہوگی۔اس حد بندی پر کشمیر کی ہند نواز جماعتوں نے اعتراضات اٹھائے لیکن ان اعتراجات کو درخور اعتنا نہیں سمجھا گیا۔ کشمیر میں ایک عام تاًثر قائم ہوگیا کہ حد بندی سے اسمبلی میں کشمیروادی اور اکثریتی طبقے کی نمائندگی کم کرنے کی سعی کی گئی اور ایسا مرکز میں حکمران جماعت بی جے پی کی ہدایت پر کیس گیا۔
آزاد کا کانگریس کو خیرباد:
جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف رہے گانگریس کے سینئر رہنما غلام نبی آزاد نے کم و بیش پچاس سال تک پارٹی کے ساتھ وابستہ رہنے کے بعد اسے الوداع کہا اور بعد مین اپنی نئی پارٹی بنانے کا اعلان کیا۔ یہ اقدام جموں و کشمیر میں کانگریس کیلئے ایک بڑا دھچکہ تھا۔ اپنے مکتوب میں انہوں نے اعتراف کیا کہ کانگریس زوال کے اس نچلے پائیدان پر پہنچی ہے جس سے واپسی کے امکانات دور دور تک نظر نہیں آتے۔انہوں نے اس صورتحال کیلئے کانگریس کے سابق صدر اور سونیا گاندھی کے فرزند راہل گاندھی کو مؤرد الزام ٹھہرایا ہے۔ ایک ماہ کے بعد آزاد نے ایک نئی سیاسی پارٹی ڈیموکریٹک آزاد پارٹی کا قیام کیا ہے ۔ اس پارٹی میں جموں و کشمیر کے کئی کانگریس کے سینیئر لیڈاران نے شمولیت اختیار کی ہے۔
پہاڑیوں کے لیے ایس ٹی ریزرویشن:
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اکتوبر میں جموں و کشمیر کا تین روزہ دورہ کیا ۔ دورے کے دوران وزیر نے کئی ترقیاتی کاموں کا افتتاح اور سنگ بیناد رکھی۔ اس دوران موصوف نے راجوری اور بارہمولہ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت جسٹس جی ڈی شرما کمیشن کی سفارشات پر پہاڑی آبادی کو ریزرویشن دے گی لیکن گجر بکروال آبادی کی ریزرویشن میں کوئی کمی نہیں کریں گی۔ گجر بکروال آبادی پہاڑی کو درجہ فہرست طبقہ کے زمرے میں ریزرویشن دینے کی شدید مخالفت کررہے ہیں۔ گجر بکروال طبقے کی آبادی کا کہنا ہے کہ پہاڑیوں کو زبان کی بنیاد پر درجہ فہرست طبقے کے زمرے میں شامل کرنا ان کی حق تلفی ہوگی کیونکہ پہاڑی گجر بکروال سے آباد ہے اور پہاڑی ہونا کوئی تہذہبی درجہ نہیں ہے۔
جموں و کشمیر میں نئے ووٹرس کا اندراج:
جموں و کشمیر کے چیف الیکٹورل آفیسر نے امسال اگست میں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ جموں وکشمیر میں ووٹرس کی نظر ثانی کے دوران 20سے 25 لاکھ نئے ووٹروں کو شامل کیا جائے گا اور اس مشق میں غیر مقامی افراد بھی اندراج کر سکتے ہیں۔اس بیان پر جموں و کشمیر کے مقامی سیاسی جماعتوں نے مخالفت کی اور الزام لگایا کہ بی جے پی جموں وکشمیر میں "درآمد” ووٹروں کو شامل کرکے انتخابی ہیٔت کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔26 نومبر کو الیکشن کمیشن نے جموں و کشمیر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی مشق مکمل کر لی ہے ۔ اس مرتبہ 7 لاکھ 72 ہزار 872 نئے ووٹرز کا اںدراج ہوا ہے جس کے بعد اب جموں و کشمیر میں کل ووٹرس کی تعداد 86 لاکھ 59 ہزار 771 ہوگئ۔
عسکریت پسندی کے واقعات:
اگر سال 2022 کی بات کریں تو نومبر دسمبر کے 27 تاریخ تک خطے میں کل 149 عسکریت پسندی کے واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں 30 عام شہری، 30 سکیورٹی فورسز کے اہلکار اور 192 عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ وہیں سال کا سب سے خونی ماہ جون رہا، جون میں کُل ہلاکتیں 40 درج کی گئیں ہیں، وہیں اسی مہینے میں تین عام شہری، دو سکیورٹی فورسز کے اہلکار اور 35 عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔( بشکریہ ای ٹی وی بھارت)








