یہ ہمارے نوجوانوں کی خوش فہمی ہے کہ وہ امتحانات کے ذریعے نوکری کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ مگر حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ ریگستان میں سراب ہے۔ اب یہاں کے نوجوان روزگار کی امیدوں سے ناامید ہوچکے ہیں۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ دلاسہ دلانے والے ہمیں وقتی مئے پلاتے ہیں تاکہ ہم کچھ وقت کے لئے اس نشے میں رہ کر حقیقت سے غافل رہے۔ سب کو یہ پتا ہے کہ حکومت بھی روزگار دینے کے موڑ میں نہیں ہے!
جن ماں باپ نے خون پیسے سے اپنے بچوں کو اس نیت سے پڑھایا تھا کہ ان کا مستقبل سنور جائے، آج اپنے آپ کو کوس رہے ہیں کہ کیوں اپنا قیمتی وقت اور سرمایہ اس فضول کام میں صرف کیا!!
اب جب کہ تعلیم کے ساتھ منسلک شعبے ہی اس غلاظت سے پاک نہیں ہے، تو پھر سماج میں دوسرے اداروں کا حال کیا ہوگا، وہ خدا ہی جانتا ہے۔ بیس سال تک پڑھائی کرنے کے بعد بھی اب اگر ایک نوجوان نوکری حاصل کرنے کے لئے’ چوروں‘ کے تلوے چاٹنے پر مجبور ہوجائے ، تو اس پڑھائی سے ناخواندہ رہنا ہی بہتر ہے۔۔۔ دنیا کے کس کونے میں ایسا ہوتا ہوگا کہ نوجوان نسل افسران اور عام لوگوں میں چھپے سانپوں کی سازشوں کا شکار ہوتے ہونگے۔ ہاں، بےروزگاری ہر جگہ ہے۔ مگر جیسی مصیبت کشمیر میں پائی جاتی ہے، اس کا تصور کرنا بھی محال ہے۔ ہر روز ایک ہی راگ الاپا جاتا ہے کہ حکومت کا بنیادی مقصد لوگوں کو آرام مہیا کرنا ہے۔ نوجوانوں کے لئے مختلف روزگار کے مواقع تلاش کئے جانے ہیں۔ یہ خبریں اخبارات کی شہ سرخیاں بنتی ہیں اور لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ لیکن جب زمینی صورتحال دیکھی جاتی ہے، تو وہاں پر درد و غم کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
پیسوں کی لالچ اور اخلاقی دیوالیہ نے اس گناہ کو عام کیا ہے۔ دولت اور شہرت نے یہاں ہر کسی کو ایک ایسی دوڑ میں لگادیا ہے کہ آگے پیچھے اب اور کچھ نہیں سوجھتا ہے۔ بینک بیلنس، گاڑیاں، زمینیں، اپنے اولاد کی خوشحالی، وغیرہ نے انسان کو یہاں دوسروں کی خوشیوں کو لوٹنے میں لگا دیا ہے۔ ایک جعلی استاد پندرہ سال کے بعد پکڑا جاتا ہے۔ ان سالوں میں اس نے لاکھوں روپیہ حرام طریقوں سے کمایا ہوتا ہے اور جب اس کو نکالا جاتا ہے، تو اس کی پوزیشن اس ڈاکٹریٹ طالب علم سے بہتر ہوتی ہے جو سالہا سال سے یہ امید لگائے بیٹھے تھا کہ ایک میرا خواب بھی پورا ہوگا۔ اخلاقی طور پر یہاں ہر مذہب و ملت کا فرد اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے۔ ایک زمانے میں خدا کے یہاں حاضر ہونے کا ڈر تھا۔ حرام کاموں سے زیادہ سے زیادہ پرہیز کیا جاتا تھا۔ لوگ مطمئن ہوا کرتے تھے۔ زیادہ کی فکر لاحق ہونے کا خدشہ بھی نہیں تھا۔ مگر اب صورتحال کچھ اور ہے۔ حیوانی جبلیات نے اپنا مکروہ چہرہ دکھانا شروع کیا ہے۔ اب اطمینان حاصل کرنے کے لئے دولت کے انبار لگائے جاتے ہیں مگر حاصل صفر۔
اللہ کے یہاں انصاف ہے۔ کسی کا گلا کاٹ کر اس کے خون سے اپنے در و دیواروں کو رنگین بنانا، انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ ریاکاری بھی ہمارے یہاں عام ہے۔ دوسروں کی توجہات کا مرکز بننے کے لئے ہم کسی بھی حدتک جاسکتے ہیں۔ جو بھی راستہ اختیار کرنا پڑھے مگر جھوٹی شناخت پر کوئی آنچ نہ آئے۔ کوئی یہ نہ کہیں کہ آپ کی حیثیت فقیروں سی ہے۔ اس ریاکاری نے بہتوں کا بیڑا غرق کروایا ہے۔ اس میں وہ بھی پائے جاتے ہیں جو اس کے مستحق تھے اور ان کو بھی وہ لے ڈوبے جن کی کوئی بھی خطا نہیں تھی۔
کشمیر کو عام طور اور نوجوانوں کو خاص کر بچانے کے لئے امتحانات میں شفافیت درکار ہے۔ نچلی سطح سے لے آخر تک، ہر جگہ جوابدہی کا عنصر شامل ہونا چاہیے۔ امتحانات کے ذریعے نوکریاں حاصل کرنے کے نظام کو واقعی شفاف بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ذہنی امراض میں اضافہ، خودکشیوں کی طرف بڑھتا ہوا رجحان، شادیوں میں تاخیر، وغیرہ کا روک تھام تب ہی ممکن ہے جب نوجوانوں کو ذہنی کوفت کے بجائے ان کے زخموں پر مرہم پٹی کی جائے۔ سب سے پہلے سرکاری سطح پر ’چوروں‘ کو باہر کا دروازہ دکھانا چاہیے۔ اس کے بعد عام لوگوں میں جو ملوث ہیں ان کے ساتھ بھی سختی سے نپٹنا چاہیے۔ قوانین صرف کتابوں تک محدود نہ رہے بلکہ ان کو زمینی سطح پر بھی لاگو کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں سب کو آنا ہوگا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ نوجوانوں کا مستقبل بہترہو، تو سب کو اس کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔









