امت نیوز ڈیسک //
نتن گڈکری 10 اپریل کو زید مورھ ٹنل کا افتتاح کریں گےسونمرگ (جموں و کشمیر): مرکزی وزیر برائے روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز نتن گڈکری جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے ہمراہ 10 اپریل کو سونمرگ میں تعمیر کی گئی زید مورھ سرنگ کا افتتاح اور زوجیلا ٹنل کا جائزہ لینے آرہے ہیں۔ اس موقعے پر اُن کے ہمراہ جموں و کشمیر انتظامیہ کے اعلیٰ افسر بھی ہوں گے۔ اس حوالے سے زوجیلا ٹنل کو تعمیر کر رہی کمپنی میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچرس لمیٹڈ کے پروجیکٹ ہیڈ ہرپال سنگھ نے ای ٹی وی بھارت سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "زید مورھ ٹنل کی اسکیپ سرنگ مقامل ہو گئی ہے اور 95 فیصد كام اس ٹنل کا مکمل ہے۔ وہیں زوجلا ٹنل پر بھی کام زوروں سے چل رہا ہے اور سنہ 2026 آخر تک عوام کے لیے کھول دی جائے گی۔
اُنہوں نے مزید کہا ہے "ٹنل کا اعلان اگرچہ سنہ 2005 میں ہوا تھا تاہم بعد میں پروجیکٹ کافی تاخیر سے شروع ہوا جس کمپنی کو اس کا کام ملا تھا وہ خسارے میں چلی گئی اور کام تقریباً دو برس تک سرگرمیاں بند رہیں، جس کے بعد مرکزی حکومت سے اس پروجیکٹ میں کچھ تبدیلیاں کر کے سنہ 2020 میں دوبارہ سے کام شروع کر کے ایم آئی ایل کو اس کا ٹنڈر دیا گیا۔”
ٹنل کے کام کے دوران درپیش مشکلات کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ "کشمیر میں سردی بہت زیادہ ہوتی ہے، منفی درج حرارت رہتا ہے، اس کے باوجود اس پروجیکٹ پر ایک ہزار لوگ شب و روز کام کرتے ہیں۔ امثال جنوری کے مہینے میں دو حادثے پیش آئے جس وجہ سے کام دو ماہ تک نہیں ہوا۔ 12 تاریخ کو اوالانچ آیا تھا جس میں دو افراد ہلاک ہوئے پھر 14 تاریخ کو دوبارہ آیا اور ہماری مشینیں برف میں دب گئی۔” انہوں نے کہا اب جب کشمیر میں موسوم تبدیل تو ٹنل کا کام دوگنا کیا جائے گا، اس وقت تقریباً 2300 لوگ یہاں کام کر رہے ہیں جن میں سے زیادہ ترمقامی (جموں و کشمیر) کے شہری ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ اس پروجیکٹ میں کل تین سرنگیں ہیں نیلگرار-1 اور نيلگرار-2 دونوں کی دو دو سرنگیں ہیں۔ چاروں سرنگ تقریباً مکمل ہیں۔ اس کے علاوہ چار پول ہیں۔ ان سب پر کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ اس کے بعد زوجیلہ ٹنل 13 کیلومیٹر کی ہوگی جس کا 60 فیصد کام ہو چکا ہے۔” وہیں اُن کا کہنا تھا کہ "بھارت اور چین کے درمیان اگر تناؤ بڑتا ہے تو زوجيلا ٹنل بھارت کی فوج کے لیے کافی کامگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس ٹنل کے ذریعے وہاں تعینات بھارتی فوجیوں کو خوراک، اصلاح اور دیگر ضروری سامان جلدی پوچھے گی۔









