سرینگر/14/ اپرئیل/
وادی بھر میں آج سال 1444ھ کے دوران منعقد ہونے والی سالانہ خاص تقریب جمعتہ الوداع نہایت احترام اور اہتمام کے ساتھ منایا گیا۔اس سلسلے میں یوٹی جموں وکشمیر اور لداغ میں حسب توقعہ روح پور سینکڑوں مختلف مجالس کا اہتمام کیاگیا تھا۔ جبکہ عام زیارتگاھوں کے علاوہ شش بعقہ جات اورتاریخی اہمیت کے حامل تمام بڑی خانقاھوں میں بھی علحیدہ تقریبات کا اہتمام کیاگیا تھا ادھر درگاہ علمدار کشمیر واقع چرارشریف کے احاطے میں موجود تاریخی خانقاہ کے میرواعظ مولینا امیر الدین شاہ نے نماذ جمعہ سے قبل فلسفہ ماہ رمضان شب قدر اور اخری عشرے کے موضوع پر روشنی ڈالی۔ محتاط اندازے کے مطابق یہاں قریب 61ھزار مسلمانوں نے اج ڈھائی بجے نماذ ادا کی تحصیلدار چرارشریف اور ایس ڈی ایم چاڈورہ اور ایس ایچ او چرارشریف وغیرہ تقریب میں شامل زائیرین کی سہولیات کےلئے ذاتی طور موقعے پر موجود رھے اس سلسلے میں قبل اذ وقت انتظامات کئے گئے تھے تاھم بعض مشکلات کے مدنظر کہیں عوامی مطالبات ضلع حکام تک پہنچائیے گے جن میں خانقاہ کی دوسری منزل بند رکھنا۔ خانقاہ کے بغل میں ٹورسٹ باتھ روم کے تعمیری کام میں ٹھیکدار کی طرف سے عدالتی سٹے اور تلاب کلان تا بس اڈہ لینک روڈ کھولنا سرفہرست ہے۔









