امت نیوز ڈیسک //
جموں:جموں پونچھ ہائی وے پر بھٹادھولیان علاقے میں عسکریت پسندوں نے ایک فوجی گاڑی پر حملے کے چھ دن بعد بھی منگل کو عسکریت پسندوں کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ سیکورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں اور ان کے حامیوں کی تلاش میں جنگلوں، نالوں اور دیہی علاقوں میں تلاشی کی اور جائے وقوعہ کے آس پاس کے علاوہ کئی کلومیٹر دور علاقوں میں چھٹے روز بھی سرچ آپریشن جاری رکھا، تاہم کوئی کامیابی نہیں ملی۔ سکیورٹی فورسز کو خدشہ ہے کہ عسکریت پسندوں نے دیہی علاقوں میں اپنے ٹھکانے بنا لیے ہوں۔ منگل کو سکیورٹی فورسز نے کالابان اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں دن بھر تلاشی کی، جو مینڈھر کے بھٹادھولیان سے 30 سے 40 کلومیٹر دور واقع ہے۔
دوسری جانب فوج نے پاک بھارت لائن آف کنٹرول پر بیریکیڈ کے سامنے واقع ڈیری کمپارٹمنٹ میں بھی سرچ آپریشن کیا۔ تاہم اب تک عسکریت پسندوں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ ذرائع کے مطابق سی آر پی ایف اہلکار منگل کو جموں پونچھ ہائی وے پر بھمبرگلی سے بھٹادھولیان تک سڑک کے کنارے تعینات تھے۔ جہاں سی آر پی ایف اہلکار ہائی وے پر تعینات تھے، وہیں فوج، کمانڈوز، ایس او جی اور پولیس جائے وقوعہ کے آس پاس کے جنگلات اور دیہاتوں میں مسلسل تلاشی مہم چلا رہے تھے۔ آس پاس کے دیہات میں بھی شک کی بنیاد پر کئی مکانوں کی تلاشی لی جارہی ہے۔
اس کے علاوہ شام دیر گئے ضلع میں بارش شروع ہونے کی وجہ سے سرچ آپریشن متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ کیونکہ ہائی وے کے وہ علاقے جہاں عسکریت پسندوں کو پکڑنے کے لیے آپریشن کیا جا رہا ہے وہ سطح سمندر سے پانچ ہزار سے سات ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہیں۔ یہاں مئی جون میں بھی جب موسم خراب ہوتا ہے اس کے ساتھ ساتھ علاقے میں دھند بھی ہے جس کے باعث سرچ آپریشن پر اثر پڑ سکتا ہے۔ غور طلب ہے کہ جمعرات کو عسکریت پسندوں نے بھٹادھولیان میں ہائی وے پر فوج کی گاڑی پر حملہ کر کے گاڑی کو آگ لگا دی تھی اور پانچ فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ عسکریت پسند دو فوجیوں کے ہتھیار بھی لے گئے۔ اس کے بعد سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر عسکریت پسندوں کی تلاش شروع کردی جو آج بھی جاری ہے۔









