امت نیوز ڈیسک //
سرینگر:شہر آفاق جھیل ڈل کے کنارے پر واقع شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں جی 20 کے سیاحتی شعبے سے متعلق ورکنگ گروپ کا تین روزہ اجلاس اختتام پزیر ہوا ہے۔ سمیٹ میں سیاحت کے مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل بحث کی گئی اور اس سے سیاحت کے حوالے کافی اہمیت کا حامل مانا جارہا ہے۔ ایسے میں اجلاس میں دنیا کے طاقتور ممالک کے مندوبین شرکت کررہے ہیں اور امید ہے کہ مندوب کشمیر کی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے اپنے اپنے ممالک میں سفیروں کا رول ادا کر سکتے ہیں۔
جی 20 مندوبین نے پہلے روز جھیل ڈل کی سیر کی ۔وہیں آج تیسرے اور آخری دن یعنی بدھ کے روز مندوبین نے شہرہ آفاق جھیل ڈل کے کناروں پر واقع مشہور مغل باغات کی سیر کی۔مندوبین کو باغ میں سیاحوں کے ساتھ تصویریں کھینچتے ہوئے دیکھا گیا اور بعض مندوبین نے کشمیر کا مخصوص روایتی لباس زیب تن کرکے گروپ تصویریں بھی کھینچیں۔مندوبین نے سہ پہر لالچوک میں واقع پولو ویو مارکیٹ کا بھی دورہ کیا۔ اس دوران مندوبین نے وہاں خریداری بھی کی اور کشمیری پشمینہ شال خریدے۔بتادیں کہ مندوبین کے دورہ پولو ویو کے پیش نظر وہاں بھی انتظامیہ نے تمام انتظامات کیے تھے۔ مارکیٹ میں صبح سے ہی سکیورٹی کا کڑا پہرا بٹھیایا گیا ہے۔وہیں پولو ویو مارکیٹ کے دکانداروں نے بھی اپنی دکانوں کی صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ کشمیر آرٹ اینڈ کرافٹ کی مصنوعات بہترین طریقے سے سجا کے رکھے ہیں۔
دریں اثناہ گزشتہ روز بھی قیاس آرائیاں کی جارہی تھی کہ مندوبین پولو ویو کا دورہ کر سکتے ہے۔ پولو ویو مارکیٹ کے ترجمان نے ای ٹی وی بھارت سے بات کرتے ہوئے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری لیے بے حد خوشی کی بات ہوگی اگر جی 20 کے مہمان اس تاریخی بازار کا دورہ کرے گے۔ انہوں نے کہا کہ سمارٹ سٹی کے تحت پولو ویو مارکیٹ کو جاذب نظر بنائے جانے سے پہلے ہی اس مارکیٹ کی شان رفت دوباره بحال ہوئی ہے۔ایسے میں اگر مندوبین مارکیٹ کا دورہ کرے گا تو اس کی اہمیت اور دوبالا ہو جائے گی۔واضح رہے کہ یہ پہلا موقعہ ہے جب کشمیر کو جی 20 سربراہ اجلاس کی میزبان کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ جی ٹوئنٹی میں یورپی یونین، ارجنٹائن، آسٹریلیا، برازیل، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، بھارت، انڈونیشیا، اٹلی، جاپان، میکسیکو، روس، سعودی عرب، جنوبی افریقہ، جنوبی کوریا، اور امریکہ وغیر شامل ہیں۔ اس گروپ کا اجلاس سالانہ بنیادوں پر ہوتا ہے اور اس بار جی ٹوئنٹی کی سربراہی بھارت کر رہاہے۔









