• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
اتوار, جنوری ۲۵, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
سرینگر میں مہاراشٹر بھون کا مجوزہ قیام؛کشمیر میں سیاحت کو فروغ دے گا کہ تباہی ؟

سرینگر میں مہاراشٹر بھون کا مجوزہ قیام؛کشمیر میں سیاحت کو فروغ دے گا کہ تباہی ؟

شاہد لطیف

by امت ڈیسک
15/06/2023
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ایک ناتھ شنڈے کی حالیہ کشمیر یاترا جسے ایک نجی یاترا کہا جارہا ہے ‘ کشمیر کے سیاسی اُفق پر ایک اور مسئلہ بن کر آن موجود ہوئی ہے۔ ایک ناتھ شنڈےکشمیر کے سیاحتی مقام گلمرگ میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ اپنی نجی سیر و تفریح کے لیے آئے تھے اور لگے ہاتھوں انہوں نے جموںو کشمیر یو ٹی کے ایل جی جناب منوج سنہا سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران شنڈے صاحب نےایل جی سے کشمیر کے اندر ایک عدد مہاراشٹر بھون کےلئے زمین مانگ لی اور اس ضمن میں ایک عدد خط بھی ایل جی صاحب کو تھما دیا۔ زمین کی فرمائش اور مذکورہ خط فوراً ایک بڑی خبر کے طور پر مقامی اور غیر مقامی میڈیا کی زینت بن گئی اور ہر سو اِس کے چرچے ہونے لگے۔ واضح رہے کہ جناب ایکناتھ شندے جموں وکشمیر کے تین روزہ تفریح کے لیے آئے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ ان کے اہل خانہ بھی تھے۔

یہ دورہ اگرچہ ایک نجی دورہ تھا لیکن مہاراشٹر بھون کی فرمائش نے اسے نجی سے سرکاری بنادیا۔شنڈے صاحب نے جموں کے کٹرہ میں وشنودیوی مندر میں پوجا کی اوربعد ازاں سرینگر پہنچے تھے۔ اخباری خبروں کے مطابق ایکناتھ شنڈے نے ایل جی منوج سنہا کے نام مکتوب لکھا ہے جس میں انہوں نے سرینگر میں مہاراشٹر بھون تعمیر کرنے کی گزارش کی ہے۔رکن اسمبلی ڈاکٹر شری کانت شنڈے بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ نے لیفٹیننٹ گورنر سے سری نگر میں ’مہاراشٹرا بھون‘ بنانے کے لیے زمین مختص کرنے کی درخواست کی تاکہ سیاحت، ثقافتی تبادلے اور اقتصادی ترقی کو تقویت ملے۔ اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکز کے زیر انتظام علاقے نے چیلنجوں کو مواقع میں بدل دیا ہے اور جموں و کشمیر اب کامیابی اور خوشحالی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر خود اعتمادی سے بھرا ہوا ہے اور یہ ترقی کی راہ پر آگے بڑھ رہا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ’گزشتہ چار سالوں میں مساوات اور سماجی انصاف کے ساتھ سماجی و اقتصادی ترقی نے سب کے لیے ہمہ گیر ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنایا ہے۔‘ اس ملاقات کے بعد شنڈے جب واپس مہاراشٹرپہنچ گئے، انہوں نے ایک پریس کانفرنس کی اور اس میں بھی اپنے کشمیر دورے کا تفصیلی ذکر کیا۔ انہوں نے کہاکہ وہ جموں میں ویشنو دیوی کے مقدس مقام پر گئے تھے اور پھر کشمیر پہنچے تھے۔ میں نے (جے کے) ایل جی منوج سنہا سے ملاقات کی۔ یہ ایک شائستہ ملاقات تھی۔ وہ ہمارا خیر خواہ ہے۔ اس نے مجھے چائے کے لیے بلایا، تو میں گیا۔مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اگست2019ءمیں مرکز کی جانب سے آرٹیکل 370کو منسوخ کرنے کے بعد جموں و کشمیر میں صورتحال بہت بہتر ہوئی ہے۔یہ اطمینان کی بات ہے کہ جموںو کشمیر میں پچھلی بار سے بہت زیادہ فرق آیا ہے۔ بہت سے ترقیاتی کام ہو رہے ہیں۔ سڑکیں بن رہی ہیں اور سیاح بڑی تعداد میں یہاں آرہے ہیں۔ جموں و کشمیر کے لوگوں میں یہ یقین پیدا ہو گیا ہے کہ انہیں تمام سہولیات مل رہی ہیں۔وزیر اعظم کی قیادت میں، (مرکزی) وزیر داخلہ (امیت شاہ) نے آرٹیکل 370کو منسوخ کر دیا۔ اب ہم یہاں بہت سی تبدیلیاں دیکھ سکتے ہیں۔ سیاحت بڑھ رہی ہے، منصوبے چل رہے ہیں، لوگوں کو روزگار ملے گا۔ ایسا پہلے نہیں دیکھا جاتاتھا۔ شنڈے کے مطابق’’ آج کشمیر میں ترقی ہورہی ہے اوریہی لوگ چاہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر ایک جنت ہے اور یہاں نہ صرف ملک کے مختلف کونوں سے بلکہ دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں۔لوگوں کے دلوں سے خوف ختم ہو رہا ہے۔ جب ترقی ہوتی ہے تو لوگوں کو روزی روٹی مل جاتی ہے۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ دفعہ 370کو منسوخ کرنا شیوسینا کے بانی بال ٹھاکرے کا خواب تھا۔جموں و کشمیر میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کرنے کے ضمن میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مسٹرشنڈے نے کہا کہ وزیر اعظم یقینی طور پر اس پر فیصلہ لیں گے۔جناب شنڈ نے ایل جی سنہا پر زور دیا کہ وہ سرینگر میں ’مہاراشٹر بھون‘ قائم کرنے کے لیے زمین فراہم کریں۔ انہوں نےفرمائش کی کہ مہاراشٹر بھون کےلئے سرینگر میں زمین کا ایک پلاٹ مختص کیا جائے تاکہ یہ بھون مہاراشٹر کی تہذیب، فن اور پکوان کے اظہار کا ہی نہیں بلکہ مختلف تقاریب کو منعقد کرنے کی بھی جگہ بن جائے ۔مسٹر شنڈے کا مذید کہنا تھا کہ اس بھون میں مہاراشٹر سے کشمیر آنے والے سیاح، تجار، طلباء اور افسران کو رہائش مہیا میسر ہوگی۔ اس سے قبل جموں وکشمیر کے ایل جی منوج سنہا نے ایک ناتھ شندے کے ساتھ سرینگر کے راج بھون میں ملاقات کی تھی۔ منوج سنہا کے دفتر نے دونوں لیڈران کی ایک تصویر بھی ٹویٹر پر شیئر کی۔ اس ٹویٹ میں لکھا گیا تھا کہ منوج سنہا کو مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور ان کے فرزند ڈاکٹر ایس ای شنڈے کے ساتھ ملاقات کرکے بے حد خوشی ہوئی۔ تاہم منوج سنہا نے شنڈے کی جانب سے سرینگر میں مہاراشٹر بھون بنانے کی گزارش پر کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔

مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ جناب ایک ناتھ شنڈے کی فرمائش پر اگرچہ تاحال کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے لیکن اس فرمائش کے چند گھنٹے بعدپونے مہاراشٹر میں قائم کسی غیر سرکاری تنظیم ’سرحد‘ کے کواڈینیٹر زاہد بٹ نے مہاراشٹر بھون کی تعمیر کےلئے بڈگام میں انکی نجی زمین دینے کا اعلان کردیا جس سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ سارا ایک طے شدہ معاملہ تھا۔ زاہد بٹ کون ہیں اور ان کے اس اعلان کی کیا حیثیت ہے۔اس بارے میں اگرچہ عام کشمیری کم بلکہ کچھ نہیںجانتے ہیں لیکن ان کی ’ مبینہ دریا دلی ‘کے ساتھ اپنی زمین پیش کرنے کی خبر کو وادی کے مقتدر اخبارات نے خاطر خواہ جگہ فراہم کی۔ اخباری خبروں کے مطابق پونے کی ایک نجی (غیر سرکاری) تنظیم ’سرحد ‘ کے کشمیری کواڈینیٹرنے مہاراشٹر بھون کے لیے بڈگام میں اپنی زمین کی پیشکش کی۔زاہد بٹ نامی مذکورہ شخص کا کہنا تھا کہ کشمیر میں مہاراشٹر بھون کی تعمیر ایک نیک قدم ہے اور اس کےلئے وہ اپنی زمین دے رہے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی مسٹر بٹ نے امید ظاہر کی ’کشمیر میں مہاراشٹرا بھون‘ کا انتظام و انصرام کشمیری مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہی رہنا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح یہ خطے کے بھرپور تنوع کو ظاہر کرے گا اور ثقافتی تبادلے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرے گا۔’سرحد ‘کی طرف سے یہ اعلان این جی او کے بانی صدر سنجے ناہر اور کوآرڈینیٹر زاہد بٹ کے مشترکہ طور پر پریس کو جاری کردہ ایک بیان میں کیا گیا۔ تاہم، اسے (زمین عطیہ کرنے کی پیشکش) کو اس نیک مقصد میں حصہ ڈالنے کے لیے ایک اعزاز ا کے طور پر بیان کرتے ہوئے، این جی او نے مہاراشٹر کی حکومت سے یہ بھی اپیل کی کہ ’’ انکی این جی او سرحد‘‘ کو جموں و کشمیر بھون کی تعمیرکے لیے پونے میں زمین کا ایک مناسب پلاٹ الاٹ کیا جائے۔ایک پریس بیان میں، ’سرحد‘ ، جو بقول انکےگزشتہ 30سالوں سے لوگوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے اور ہندوستان کی سرحدوں کے پار ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے وقف ہے، نےمہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ایک ناتھ شنڈے کے بصیرت مندانہ موقف کی تعریف کی۔ این جی او نے کہا کہ کشمیر میں مہاراشٹر بھون کے لیے ان کی (شنڈے) کی تجویز کو مہاراشٹر اور جموں و کشمیر کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کی طرف ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔ واضح رہے کہ کہ مہاراشٹر بھون کی تعمیر کے لیے عطیہ کی جانے والی مجوزہ زمین بڈگام ریلوے اسٹیشن سے ملحق ہے جو سرینگر کے ہوائی اڈے سے صرف پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
مہاراشٹر بھون کی مجوزہ تعمیر کے ضمن میں اگرچہ کشمیر میں کسی سیاسی جماعت یا لیڈر کا کوئی خاطر خواہ بیان ہنوز جاری نہیںہوا ہے لیکن کئی دانشور، سماجی کارکن اور صحافی اس تجویز اور این جی او کی مداخلت پر انگشت بدندان ہیں۔ یہ بھی ابھی واضح نہیں ہے کہ آیا جموں و کشمیر حکومت اس منصوبے کو آگے بڑھانے کی اجازت دے گی یا نہیں۔کشمیر میں بہت سے لوگ جموں و کشمیر میں مہاراشٹر بھون قائم کرنے کے مقصد پر سوال اٹھا رہے ہیں اور اسے خطے میں اثاثے بنانے کے ضمن میں بیرونی لوگوں کی مدد کرنے کے ایک منصوبے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ایک مقتدر قومی اخبار کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے’ حکومت کے محکمہ سیاحت کے سابق ڈائریکٹر جنرل سلیم بیگ ‘نے کہا کہ ’’یہاں صرف ہندوستانی ریلوے کا ایک بھون ہے۔یہاں کسی ریاست کے پاس ایسا کوئی بھون نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک رجحان شروع کرے گا اور دوسری ریاستیں اس کی پیروی کریں گی۔ آخر کار، یہ سب کچھ تباہ کر دے گا اور یہاں کی سیاحت کو مدد نہیں دے گا۔‘‘ مسٹربیگ کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر میں ایسی کوئی چیز نہیں تھی جو دوسری ریاستوں کو کشمیر میں بھون قائم کرنے سے روکتی تھی۔ وہ دفعہ 370 کی وجہ سے ماضی میں یہاں زمین نہیں خرید سکتے تھےلیکن وہ اسے لیز پر حاصل کر سکتے تھے۔ اب وہ اسے خرید سکتے ہیں۔ اگر تمام ریاستیں ایسا کرتی ہیں، تو وہ اپنی ریاستوں کے رہائشیوں کے لیے سینکڑوں کمرے بنائیں گے، اور آخر کار ہماری آمدنی کو نقصان پہنچے گا۔ اس طرح آپ سیاحت کو فروغ دینے کے بجائے، ہماری سیاحت کو نشانہ بنائیں گے اور بھاری نقصان کریں گے۔اس حوالے سے کشمیر کے ایک معروف صحافی جو خود بڈگام سے تعلق رکھتے ہیں نے اس ضمن میں ایک عدد ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’40 برس قبل، مالابار پہاڑی(ممبی) پر واقع جموںو کشمیر کی2 ہزارکروڑ روپے مالیت کی ملکیتی زمین کو ایک بڑے تاجر کو لیز پر دینے کے ضمن میں بدترین بے قاعدگی/ غیر منصفانہ ترجیح کا جرم کیا گیا ہے۔ایک ناتھ شنڈے کی سرینگر میں مہاراشٹر بھون کی تعمیر کی تجویز بدست لیتے وقت جناب ایل جی ممبئی میں موجودجموں وکشمیر کی مذکورہ پراپرٹی کو بازیافت کرنے کی کوشش کا آغاز بھی کریںـ‘‘۔ مذکورہ صحافی سے جب اس ٹویٹ پر سوالات کئے گئے تو ان کا کہنا تھا کہ جن ایام میں کشمیر کی یہ زمین ممبئی کے ایک تاجر کو اونے پونے داموں پر تفویض کیا جارہا تھا، کشمیر کے ایک مقتدر اردو روزنامے نے اس کو روکنے کی کافی کوششیں کی تھیں لیکن وہ ناکام ہوگئی تھیں۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

ہائبرڈ ماڈل قبول ایشیا کپ پاکستان اور سری لنکا میں منعقد ہو گا

Next Post

گداگری:’’ایک ملٹی ملین ڈالر انڈسٹری‘‘

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

ادھمپور کی جانب سے پھنسی ہوئی گاڑیاں نکال لی گئیں، جموں جانے والی ٹریفک معطل

ادھمپور کی جانب سے پھنسی ہوئی گاڑیاں نکال لی گئیں، جموں جانے والی ٹریفک معطل

25/01/2026
وزیر اعلی کے مشیر ناصر اسلم  وانی کو کابینہ وزیر کا درجہ دے دیا گیا

وزیر اعلی کے مشیر ناصر اسلم وانی کو کابینہ وزیر کا درجہ دے دیا گیا

24/01/2026
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کا بنگلہ دیش کو الٹی میٹم، بھارت نہ آنے پر متبادل ٹیم شامل کرنے کا فیصلہ

بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کھیلے گا ٹی20 ورلڈ کپ

24/01/2026
کشمیر میں اگلے 48 گھنٹوں کے دوران موسم عام طور پر خشک رہنے کا امکان

کشمیر میں اگلے 48 گھنٹوں کے دوران موسم عام طور پر خشک رہنے کا امکان

24/01/2026
یوم جمہوریہ کی تقریب سے قبل تمام انتظامات مکمل، برفباری کے بعد زمینی اور ہوائی رابطہ بحال،صوبائی کمشنر کشمیر

یوم جمہوریہ کی تقریب سے قبل تمام انتظامات مکمل، برفباری کے بعد زمینی اور ہوائی رابطہ بحال،صوبائی کمشنر کشمیر

24/01/2026
مبینہ حملے کے بعد تہار میں ایم پی انجینئر رشید کو جیل نمبر 1 منتقل کیا گیا

عدالت نے رکنِ پارلیمنٹ انجینئر رشید کو حراستی پیرول پر بجٹ اجلاس میں شرکت کی اجازت دے دی

24/01/2026
Next Post
سرینگر میں مہاراشٹر بھون کا مجوزہ قیام؛کشمیر میں سیاحت کو فروغ دے گا کہ تباہی ؟

گداگری:’’ایک ملٹی ملین ڈالر انڈسٹری‘‘

کپواڑہ میں معرکہ آرائی شروع

کپواڑہ میں معرکہ آرائی شروع

کپواڑہ میں معرکہ آرائی شروع

کپواڑہ جھڑپ : 5 غیر ملکی ملی ٹینٹ ہلاک، تلاش جاری: اے ڈی جی پی کشمیر

*سرینگر کے کاک سرائے میں لڑکی کے وار سے لڑکا زخمی*  *پیٹ میں چوٹ آئی ہے، ان کی حالت مستحکم ہے: سی ایم او ایس ایم ایچ ایس*

*کلگام میں جائیداد کے تنازع پر بھائی اور بہن کو چاقو کے وار*

مینڈھر میں 2 لاوارث تھیلوں نے خوف و ہراس پھیلا دیا، بم اسکواڈ کو طلب کیا گیا*

مینڈھر میں 2 لاوارث تھیلوں نے خوف و ہراس پھیلا دیا، بم اسکواڈ کو طلب کیا گیا*

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »