امت نیوز ڈیسک //
سرینگر:نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے پیر کے روز پارٹی ہیڈ کوارٹر میں میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ کلعدم تنظیم جے کے ایل ایف کے سربراہ محمد یاسین ملک کی اہلیہ کو پاکستان کے نئے نگراں حکومت میں عہدہ دینے سے ہمیں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ پڑدوسی ملک کا اندرونی معاملہ ہے۔
انہوں نے سوالہ انداز میں کہا کہ "کیا ہم پاکستان سے مشورے کے بعد وزراء کی یہاں تقرری کرتے ہیں؟ ہم ان سے اپنے وزراء کی تقرری سے پہلے ہم سے مشورہ کرنے کی توقع کیوں رکھیں؟ یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے اور ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔راہل گاندھی کے حالیہ بیان کہ چین نے لداخ میں بھارت کی زمین پر قبضہ کیا کے سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کچھ کہنے سے گریز کیا ۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی ہی اس کا جواب دیں گے کہ کیا چین نے بھارت کی زمین قبضے میں لی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ظاہر ہے کہ وہاں (لداخ میں) ان کے ساتھیوں نے راہل گاندھی کو اس معاملے کے بارے میں بتایا ہوگا اور میں وہاں لداخ میں نہیں ہوں۔
بتادیں کہ کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے گزشتہ روز کہا کہ مرکزی حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ بھارت کی ایک انچ زمین چین نے نہیں لی ہے تاہم حقائق اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی لوگ دعویٰ کر رہے ہیں کہ بھارتی علاقے میں چینی فوجیوں نے مداخلت کی اور چراہگاہ کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ان کے مطابق مرکزی حکومت کی جانب سے چین کے حوالے سے کئے جارہے سبھی دعوئے حقیقت سے کوسوں دور ہے۔جموں و کشمیر میں آنے والے بلدیاتی انتخابات کے بارے میں پوچھے جانے پر عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ انتخابات کے اعلان کے بعد ہی اس پر تبصرہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ آج ‘بڑا سوال’ یہ ہے کہ بی جے پی جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانے سے کیوں خوفزدہ ہے جب کہ دیگر تمام انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے سوالہ انداز میں کہا کہ اگر یو ایل بی، پنچایت اور پارلیمنٹ کے انتخابات ہو سکتے ہیں، تو اسمبلی کے لیے کیوں نہیں؟ بی جے پی اسمبلی انتخابات سے کیوں بھاگ رہی ہے۔
لداخ میں ہل کونسل کے انتخابات میں نیشنل کانفرنس کے انتخابی نشان کے معاملے پر عمر عبداللہ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اگر یہ معاملہ سپریم کورٹ میں چلا گیا تو ان کی پارٹی جیت جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کیا ہل کونسل انتخابات میں این سی کا نشان اتنا بڑا مسئلہ بن گیا ہے کہ انتظامیہ کو سپریم کورٹ جانا پڑے؟ ہمارے وکلاء تیار ہیں اور ہمیں وہاں بھی جیت کی امید ہے۔
واضح رہے کہ رواں مہینے کی پانچ تاریخ کو الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کی گئی تھی۔ اس نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ 30 رکنی ایل اے ایچ ڈی سی کی 26 نشستوں پر آئندہ ماہ (ستمبر) کی 10 تاریخ کو انتخابات منعقد کیے جائیں گے، جس کے بعد ووٹوں کی گنتی چار روز بعد یعنی 14 ستمبر کو انجام دی جائے گی۔








