امت نیوز ڈیسک //
سرینگر//ڈانگری راجوری سات عام شہریوں کی ہلاکتوں کے واقعے کے آٹھ ماہ بعد این آئی اے نے انکشاف کیا ہے کہ اس قتل غارت گری میں تین لشکر طیبہ کے جنگجو مبینہ طو رپر ذمہ دار ہے جن کو پناہ دینے والے اور ان کی مدد کرنے والے ان کی گرفت میں آچکے ہیں۔ ڈھانگری راجوری ضلع میں اقلیتوں کے المناک قتل عام کے تقریباً آٹھ ماہ بعد، قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے آج انکشاف کیا ہے کہ یہ ہلاکتیں تین خوفناک لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کے عسکریت پسندوں کے ذریعہ ترتیب دی گئی تھیں۔ اور اس ضمن میں دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جنہوں نے مجرموں کو دو ماہ تک ایک ٹھکانے میں پناہ دی تھی۔ذرائع نے اس ضمن میں بتایا کہ این آئی اے نے ڈھانگری کے قتل کا حکم دینے والے پاکستان میں مقیم لشکر طیبہ کے تین عسکریت پسندوں کی شناخت کی ہے جو سیف اللہ عرف ساجد جٹ، ابو قتال عرف قتال سندھی اور محمد وسیم ہیں۔ ڈھانگری کے قاتلوں کو دو ماہ تک ان کے لیے بنائے گئے ٹھکانے میں پناہ دینے پر آج حراست میں لیے گئے دو عسکریت پسندوں کی شناخت نثار احمد عرف حاجی نثار ولد محمد شریف اور مشتاق حسین ولد میر محمد کے طور پر کی گئی ہے۔ دونوں گورسائی کے رہائشی ہیں اور اس سے قبل پونچھ ضلع کی مینڈھر تحصیل کے گرسائی پولیس اسٹیشن میں ان کے خلاف درج ایک اور مقدمے کی وجہ سے سنٹرل جیل کوٹ بھلوال میں نظر بند تھے۔ان کی گرفتاری کے بعد انہیں جموں میں این آئی اے کی خصوصی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا اور سرحد پار قاتلوں اور ان کے سرپرستوں کے بارے میں مزید تفصیلات سے پردہ اٹھانے کے مقصد سے گہری پوچھ گچھ کے لیے انہیں 12 دن کی NIA کی تحویل میں بھیج دیا گیا۔











