امت نیوز ڈیسک//
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ وادی میں "ماحول” مغربی بنگال کے مقابلے بہتر ہے۔ سنہا کا یہ بیان جموں کے پونچھ ضلع میں گھات لگا کر حملے میں چار ہندوستانی فوجی اہلکاروں کی جان گنوانے کے ایک دن بعد آیا ہے۔ سنہا نے کولکتہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "وہاں کے لوگ [جموں کشمیر] مغربی بنگال کی نسبت زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ آپ کو مغربی بنگال کے مقابلے جموں و کشمیر میں بہتر ماحول ملے گا۔ براہ کرم ریاست کا دورہ کریں، اور آپ کو فرق نظر آئے گا،” جب نامہ نگاروں کے ذریعہ تبصرے کے بارے میں سوال کیا گیا تو سنہا نے وضاحت کی، "میرے ریمارکس کو سیاسی طور پر نہیں ٹوڑ مڑوڑجانا چاہئے، جیسا کہ میرا یہ کہنا تھا کہ کشمیر میں سیکورٹی کی صورتحال بنگال کی طرح اچھی ہے۔” فوج کے قافلے پر ملی ٹینٹ حملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سنہا نے اپنی مذمت کا اظہار کیا۔
سنہا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سیکورٹی کی صورتحال پہلے کے مقابلے میں کافی حد تک بہتر ہوئی ہے۔ "جموں و کشمیر آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے اب ایک تاریخی راستہ طے کر رہا ہے۔ صنعتی ترقی کے لیے ایک ٹھوس بنیاد رکھی گئی ہے۔ جموں و کشمیر میں سرمایہ کاری ترقی کے خواہاں افراد کے لیے ایک دانشمندانہ انتخاب ہو گا،” ۔
دریں اثنا، ترنمول کانگریس (TMC) نے سنہا کے تبصروں کا فوری جواب دیا، مرکزی حکومت کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کولکتہ اور بنگال کو محفوظ ترین مقامات کے طور پر اجاگر کرتے ہوئے ان کے دعوے کا مقابلہ کیا۔ ٹی ایم سی کے ترجمان کنال گھوش نے کہا کہ "وہ (منوج سنہا) بی جے پی کے آدمی ہیں، وہ باتیں کہہ رہے ہیں جو ان کی پارٹی چاہتی ہے۔ انہیں دراصل سابق گورنر سے بات کرنی چاہیے اور ان سے پوچھنا چاہیے کہ پلوامہ میں کیا ہوا تھا۔ مرکزی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق کولکتہ اور مغربی بنگال سب سے محفوظ جگہیں ہیں۔ ہندوستان میں ہوں،”۔( انڈیا ٹوڈے)







