امت نیوز ڈیسک//
شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے گانٹہ مولہ گاؤں میں سابق ایس ایس پی محمد شفیع میر کی فائرنگ میں ہلاکت پر جموں و کشمیر کے سیاسی رہنماوں نے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔
شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں نامعلوم عسکریت پسندوں کی جانب سے سابق پولیس افسر کی ہلاکت پر جموں کشمیر کی سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں نے اظہار افسوس کیا اور سرکار پر زور دیا کہ عسکریت پسندوں کے خاتمے کے لئے سرکار فیصلہ کن اقدامات اٹھائے۔
سابق وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے کہا کہ یہ افسوسناک واقعہ ہے کہ عسکریت پسندوں نے ایک سابق پولیس افسر کو ہلاک کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار کو دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کشمیر کی ناسازگار صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں کہ وادی میں حالات ابتر ہی ہورہے ہیں۔ سابق وزیر اعلی اور ڈیموکریٹک پروگریسیو آزاد پارٹی کے صدر غلام نبی آزاد نے سابق پولیس افسر کی ہلاکت پر مذمت اور افسوس کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر میں دہشت گردی کے بڑھتے حملے تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکار کو دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات اٹھانے چاہیے تاکہ شہریوں کی حفاظت یقینی بنے۔
سابق وزیر اور جموں کشمیر اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے کہا کہ پولیس افسر کی ہلاکت بزدلانہ کاروائی ہے اور ایسے حملہ کرنے والوں کی اصل فطرت واضح کر رہے ہیں کیونکہ مہلوک افسر ازان دینے کے دوران ہلاک کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو بھی شرم سار ہونا چاہئے جو ایسے حملہ کرنے والوں کے حرکات کو جہاد سے تعبیر کرتے ہیں۔ الطاف بخاری نے کہا کہ ایسے حملہ کرنے والے قاتل ہے اور ایسے قاتلوں کے خلاف سماج کے اکٹھا ہونا چاہئے۔
بی جے پی ترجمان الطاف ٹھاکر نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہے۔غور طلب ہے کہ آج علی الصبح وادی کے بارہمولہ کے گھاٹملہ گاؤں میں نامعلوم عسکریت پسندوں نے سابق ایس ایس پی محمد شفیع میر کو اس وقت فائرنگ کرکے ہلاک کیا جب وہ مسجد میں اذان دے رہے تھے۔








