امت نیوز ڈیسک //
سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) سرپرست محبوبہ مفتی اپنے حامیوں سمیت راجوری – پونچھ شاہراہ پر اُس وقت دھرنے پر بیٹھ گئی جب انہیں انتظامیہ کی جانب سے پونچھ جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے وہ حراست کے دوران زد و کوب کے دوران ہلاک کیے گئے مقامی شہریوں کے لواحقین کے ساتھ تعزیت پرسی کے لیے ٹوپہ پیر، پونچھ جانا چاہتی ہیں تاہم انہیں اس کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
پونچھ – راجوری ہائی وے پر احتجاجاً دھرنے پر بیٹھی محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ وہ پونچھ، ٹوپہ پیر علاقہ جائے بنا واپس نہیں لوٹیں گی، چاہے انہیں رات بھر شاہراہ پر ہی کیوں نہ بیٹھنا پڑے۔ محبوبہ مفتی نے انتظامیہ کے اس رویے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’حیران کن طور پر صرف مجھے لواحقین کے ساتھ ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی جبکہ ان کی پارٹی کے ممبران و لیڈران آزادی سے وہاں جا رہے ہیں۔‘‘میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا: ’’نہ جانے انتظامیہ مجھ سے اتنی خوفزدہ کیوں ہے؟ سیکورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں، پھر بھی مجھے اجازت نہیں دی جا رہی۔ ٹرانسپورٹ رواں دواں ہے، لیڈران لواحقین سے مل رہے ہیں، صرف مجھے روکا جا رہا ہے، شاید اس وجہ سے کہ کہیں ان (سیکورٹی ایجنسیز) کی پول نہ کھل جائے۔‘‘
محبوبہ مفتی نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا: ’’میں نے سنا ہے کہ وہاں فوج نے مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کو بھی ڈرایا اور دھمکایا گیا ہے۔‘‘ تاہم انتظامیہ یا پولیس کی جانب سے محبوبہ مفتی کو روکے جانے سے متعلق کوئی بھی وضاحتی، تائیدی یا تردیدی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
قبل ازیں محبوبہ مفتی کو گزشتہ ہفتے بھی اُس وقت پونچھ جانے سے روکا گیا اور انہیں سرینگر میں ہی خانہ نظر بند کیا گیا جب پونچھ کے بفلیاز علاقے سے فوجی حراست کے دوران تین شہریوں کو مارنے کی خبریں موصول ہوئیں۔










