جدید سعودی ریاست اب محمد بن عبدالوہاب کے مذہبی نظریہ اور تشریحات سے دامن چھڑا کر ایک غیر مذہبی چھاپ اور شناخت سے ساتھ اُبھر رہی ہے۔
پچاسی سال کے بعد سعودی عرب ثقافتی تبدیلی کی راہوں پر بگٹٹ دوڑ رہا ہے۔ عثمانی خلافت کی راکھ پر جس جدید سعودی ریاست کی عمارت کی بنیاد رکھی گئی تھی اب اس عمارت کے در و دیوار نئے دور، نئے موسموں کے تقاضوں کے مطابق تزئین وآرائش کے نئے مراحل سے گزر رہے ہیں۔ جدید سعودی ریاست کی بنیادیں طاقت اور مذہب کے دو الگ مگر متصل دھاروں سے عبارت تھیں۔ طاقت، اقتدار اور اختیار پر آل سعود کا حق تھا تو مذہبی معاملات پر اسکالر محمد بن عبدالوہاب کے نظریات اور خیالات کا حق فائق تھا۔ جدید سعودی ریاست اب محمد بن عبدالوہاب کے مذہبی نظریہ اور تشریحات سے دامن چھڑا کر ایک غیر مذہبی چھاپ اور شناخت سے ساتھ اُبھر رہی ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان تبدیلی کے سفر میں سعودی عرب کی اس ثقافتی تشکیل جدید کی قیادت کر رہے ہیں۔ محمد بن سلمان ایک مصلح بن رہے ہیں۔ سعودی عرب کے اوپر سے سخت گیر مذہبی ریاست کی چھاپ اتار کر اسے عراق، اردن اور لبنان جیسے دوسرے ہمسایہ عرب ممالک جیسا بنا رہے ہیں۔ خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت سے شروع ہونے والا سفر اب چند دن قبل انٹرنیشنل فلم فیسٹول اور میوزک کنسرٹ کے انعقاد تک جا پہنچا جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی اور رنگ ونور کی برسات میں فن وثقافت کے محیر العقول مظاہرے ہوئے۔ ویلٹائن ڈے اور کرسمس منانے والوں کو اب ریاست شک کی نظر سے نہیں دیکھ رہی بلکہ انہیں سہولتیں پہنچا رہی ہیں۔ ’’نیوم‘‘ شہرکے نام سے جدید آزادیوں کی ایک نئی دنیا بسائی جاچکی ہے۔
سعودی عرب میں چونکہ مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات ہیں اس لیے اس کی سوچ وساخت پوری دنیا پر نظریاتی اور ثقافتی اثرات مرتب کرتی رہی ہے۔ اب سعودی عرب کے نئے نظریات بھی جلد یا بدیر مسلمان دنیا پر اپنا رنگ اور نقش قائم کرتے جائیں گے۔ ماضی میں سعودی عرب جن نظریات کے زیر اثر تھا پوری دنیا میں دیہاتوں اور شہروں میں افریقا سے ایشیا اور یورپ وامریکا تک دیدہ زیب مساجد اور مدرسوں میں سعودی عرب کا ایک کردار ہے۔ دنیا بھر میں جہادی نظریات کے احیاء اور تجدید میں سعودی عرب کے مذہبی اسکالرز کی تعلیمات کاگہرا دخل ہے۔ اب جب سعودی عرب میں جدید اصطلاحات میں روشن خیال اعتدال پسندی کی ہوائیں چلنا شروع ہوں گی تو یہی دنیا ایک نئے انداز سے ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گی۔ اس مرحلے پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا محمد بن سلمان سعودی عرب کے ’’مصطفی کمال پاشا‘‘ بن کر اُبھر رہے ہیں۔ اس کا جواب مسجد اقصیٰ کے امام کی ایک وائرل ہونے والی ویڈیو میں ملتا ہے۔ جو کہتے ہیں کہ محمد بن سلمان فی الواقعی سعودی عرب کے مصطفی کمال بننے کی راہ پر چل رہے ہیں۔ وہ مصطفی کمال کی طرف سے ترکی کو جدید اور غیر مذہبی بنانے کے لیے اقدامات گنواتے ہیں۔ جن میں ترکی کے رسم الخط کی تبدیلی سے بہت سی تبدیلیوں کا ذکر ہے۔
سعودی عرب کی تبدیلیاں ایک عرصے سے نوشتہ ٔ دیوار تھیں اور اس سمت میں پیش رفت کا آغاز نائن الیون کے بعد ہوگیا تھا۔ نائن الیون کے حادثے میں تمام ہائی جیکروں کا سعودی شہری ہونا اور امریکا کے مطابق سب سے بڑے منصوبہ ساز اسامہ بن لادن کا سعودی شہری ہونا اس ملک پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے کافی تھا۔ نائن الیون کے بعد امریکا کے دو سخت گیر نظریات کے حامل اخبارات واشنگٹن ٹائمز اور نیویارکر میگزین کے آرکائیوز کا جائزہ لیا جائے تو افغانستان سے پہلے سعودی عرب کو سزا دینے کی سوچ سامنے آتی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ مغربی ملکوں کے معاشی اور کاروباری تعلقات نے امریکا کو کسی فوری ردعمل سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکی بینکوں کا کاروبار اس وقت سعودی سرمائے سے ہی چل رہا تھا۔ اس مجبوری کے باعث مسلمان دنیا بالخصوص سعودی عرب کو محمد بن عبدالوہاب کے نظریات سے آزاد کرکے ایک جدید ریاست بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس وقت مسلمان دنیا کے جدید اور لبرل رول ماڈل ملک کے لیے عراق، ترکی کے ناموں پر بحث ہوئی مگر کسی ایک نام پر اتفاق نہ ہوسکا۔ مغرب کی اس سوچ اور ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے جنرل مشرف نے بروئے کار آنے کا فیصلہ کیا انہوں نے اقتدار پر قبضہ کرتے ہی ٹائم میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے مصطفی کمال پاشا کو اپنا آئیڈیل قرار دیا تھا۔ اسی دور میں امریکا میں پاکستانی سفارت خانے نے ایک دعوت نامے میں ’’اسلامک ری پبلک آف پاکستان‘‘ کے بجائے ڈومین آف پاکستان کے الفاظ متعارف کرانے کی کوشش کی تھی۔ یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی اور جنرل مشرف کی روشن خیال اعتدال پسندی کا اس وقت ’’اسقاط‘‘ ہوگیا جب ان کے جانشین جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بہت معنی خیز جملہ کہا کہ اسلام ہی پاکستان کا راہنما اصول رہے گا۔ یوں روشن خیال اعتدال پسندی کا سفر ادھورا ہی رہ گیا۔ اس دوران عرب بہار نے وقت گزیدہ شخصی حکمرانوں کے تاج وتخت ہلانا شروع کیے تو سعودی عرب اس لہر کا شکار ہونے سے بال بال بچ گیا، اس بچائو کی قیمت یہ ہے کہ اب سعودی عرب کو بدلنا ہی ہے۔ امریکا کے سیکرٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلرسن نے کئی برس پہلے امریکی سینیٹ میں اس سوال کہ امریکی حکومت مسلم شدت پسندی کو روکنے کے لیے سعودی حکومت کے ساتھ مل کر کیا اقدامات اُٹھا رہی ہے کا جواب یوں دیا تھا۔
’’ہم نے ریاض میں مشترکہ دفتر کھولا ہے مذہبی کتابوں کو شدت پسندی سے پاک کرنے کے لیے۔ ہم نئی کتابیں مہیا کر رہے ہیں جو سعودی عرب میں پڑھائی جائیں گی۔ یہ کتابیں عالمی سطح پر تقسیم کی جارہی ہیں۔ تمام نصابی کتابوں کا از سر نو جائزہ لیا جارہا ہے۔ مساجد کے نوجوان امام تیار کیے جا رہے ہیں جو وائٹ ہائوس کی براہ راست نگرانی میں کام کریں گے وہابی ازم اور سلفی ازم اور مسلم شدت پسندی کے پیغام کو روکنے کے لیے‘‘۔
بدلا ہوا سعودی عرب کسی پر گراں گزرے یا خوش گوار احساس کا باعث بنے مگر حقیقت یہ ہے کہ ’’ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں‘‘۔
بدلا ہوا سعودی عرب کسی پر گراں گزرے یا خوش گوار احساس کا باعث بنے مگر حقیقت یہ ہے کہ ’’ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں‘‘۔










