امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج اسمبلی میں بجٹ2025 پیش کیا، جو سات سال میں کسی منتخب حکومت کا پہلا بجٹ ہے۔ بجٹ میں معیشت کی بحالی، عوامی فلاح و بہبود، سیاحت، زراعت، صنعتی ترقی اور مفت عوامی سہولیات جیسے کئی اہم اقدامات شامل ہیں۔
بجٹ 2025 کی نمایاں جھلکیاں:
معاشی و سماجی ترقی: عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر میں استحکام اور ترقی پر زور دیتے ہوئے اقتصادی ترقی اور فلاحی اسکیموں کا اعلان کیا۔
زراعت کو فروغ: 815 کروڑ روپے کی بجٹ رقم سے 2.88 لاکھ ملازمتیں پیدا ہوں گی، دو فصلوں کی کاشت کو فروغ ملے گا، اور باغبانی کے شعبے کو تقویت دی جائے گی۔
اون اور چمڑے کی صنعت: مقامی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے اون کی پروسیسنگ اور چمڑے کی کمہار صنعت کے فروغ کا اعلان۔
سیاحت کا فروغ: 390.20 کروڑ روپے کے بجٹ سے مختلف سیاحتی منصوبے، 2.36 کروڑ سیاحوں کا ہدف، اور کشمیر میراتھن جیسے ایونٹس متعارف کیے جائیں گے۔
انفراسٹرکچر: 500 نئے پنچایت گھروں کی تعمیر سے مقامی حکمرانی اور بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے کا منصوبہ۔
نئے سیاحتی مقامات: صوبہ جموں کے بسوہلی علاقے کو ایڈونچر ٹورازم مرکز میں تبدیل کرنے اور جموں کے سدھرا میں نیا واٹر پارک قائم کرنے کا اعلان۔
کھیل و ایڈونچر اسپورٹس: واٹر اسپورٹس کے فروغ اور سونہ مرگ کو ونٹر اسپورٹس کے اہم مرکز میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی۔
فلم پالیسی: فلم انڈسٹری اور ماحولیاتی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے نئی فلم پالیسی متعارف۔
صنعتی ترقی: 64 نئے صنعتی زونز کی تعمیر اور تاجروں کے مسائل کے حل کے لیے نئی مراعات۔
جی آئی ٹیگنگ: پشمینہ اور دیگر سات مصنوعات کو جغرافیائی شناخت دینے کا اعلان تاکہ مقامی دستکاری کی حوصلہ افزائی ہو۔
صحت عامہ کے اقدامات:
دو نئے ایمس (AIIMS) اسپتالوں کا قیام۔
دس نئے نرسنگ اسکولوں کی تعمیر۔
تمام شہریوں کے لیے 5 لاکھ روپے تک کی ہیلتھ انشورنس۔
ٹیلی میڈیسن سہولیات میں اضافہ۔
طبی ڈھانچے کی بہتری:
تین نئے کیتھ لیبز (Cath Labs) قائم کیے جائیں گے۔
سرکاری اسپتالوں میں MRI مشینوں کی تنصیب۔
ضلعی اسپتالوں میں ڈائیلیسز کی خدمات میں توسیع۔
ترقیاتی فنڈ: علاقائی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 5000 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔
مالی نظم و ضبط: اگرچہ ریاست کو مالی خسارے اور قرض کا سامنا ہے، لیکن 70% فنڈز تنخواہوں میں خرچ ہو رہے ہیں، اور تمام قرضے مالیاتی قوانین کے اندر رکھے جا رہے ہیں۔
مفت سہولیات:
قریبی رشتہ داروں کے درمیان جائیداد منتقلی پر اسٹامپ ڈیوٹی ختم۔
خواتین کے لیے سرکاری بسوں اور الیکٹرک بسوں میں مفت سفر۔
جموں و کشمیر میں AAY خاندانوں کے لیے 200 یونٹ بجلی مفت۔









