امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کے سابق قریبی ساتھی ایڈوکیٹ محمد شفیع ریشی نے جموں و کشمیر ڈیموکریٹک پولیٹیکل موومنٹ (DPM) اور کل جماعتی حریت کانفرنس (جی) سے اپنی مکمل علیحدگی کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ پیر کی شام کو جاری کردہ ایک بیان میں ریشی نے واضح کیا کہ انہوں نے 2017 میں ڈی پی ایم کے ساتھ تمام تعلقات منقطع کر لیے تھے اور اس کے بعد سے ان کا کسی بھی علیٰحدگی پسند تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ریشی نے بیان میں کہا کہ ریشی نے بیان میں کہا کہ "میں نے 2017 میں چیئرمین کے طور پر اپنے دور میں ڈی پی ایم سے خود کو الگ کر لیا تھا اور اس کے بعد سے میرا اس تنظیم یا کسی دوسرے علیٰحدگی پسند گروپ سے کوئی تعلق نہیں رہا ہے۔ اب میں پوری طرح سے اپنے قانونی پیشے پر توجہ دے رہا ہوں۔”
اپنے بیان میں ریشی نے آل پارٹیز حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) کے ذریعہ فروغ دیے جا رہے نظریہ پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک جموں و کشمیر کے لوگوں کے جائز مطالبات اور شکایات کو دور کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تنظیموں کی حکمت عملی سے کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلا ہے اور صرف علیٰحدگی اور انتشار پیدا ہوا۔
نام کے غلط استعمال کے خلاف وارننگ
ایڈوکیٹ محمد شفیع ریشی نے کسی بھی علیٰحدگی پسند تنظیم یا ایسی سرگرمیوں میں اپنے نام کے غلط استعمال کے خلاف بھی خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی اجازت کے بغیر علیٰحدگی پسند تنظیموں کے سلسلے میں ان کا نام کسی بھی طریقے سے استعمال کیا گیا تو وہ قانونی کارروائی کریں گے۔
ریشی نے بھارت سے اپنی وفاداری کا اعادہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ "میں ہندوستان کا ایک حقیقی شہری ہوں اور ہندوستانی آئین کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہوں۔”








