امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 29 مارچ – سید کدل، حسن آباد، سرینگر میں واقع تبین قرآنی تحقیقاتی ادارے میں قرآن اور اسلامی خطاطی کی عظیم الشان نمائش کا افتتاح کیا گیا ہے، جو اسلامی خطاطی کے بھرپور ورثے اور کشمیری فنکاروں کے تخلیقی اظہار کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ نمائش 24 مارچ سے 30 مارچ تک جاری رہے گی اور اس نے علماء، فنکاروں اور قرآنی فن کے شائقین کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔یہ تقریب حجۃ الاسلام والمسلمین جناب آغا سید عابد حسین، چیئرمین تبین قرآنی تحقیقاتی ادارہ، کی زیرِ سرپرستی منعقد کی گئی، جنہوں نے اسلامی ثقافت کے روحانی اور فنی جوہر کو محفوظ رکھنے میں قرآنی خطاطی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ کشمیر کے معروف سماجی کارکن سید اعجاز کشانی، نامور ماہرِ تعلیم سلیم میر اور سماجی کارکن امجد رضوی نے اس نمائش کا دورہ کیا۔ اس موقع پر سید اعجاز کشانی نے خطاب کرتے ہوئے کشمیری خطاطوں کے منفرد ہنر کو فروغ دینے اور محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس نمائش میں کشمیری فنکاروں کے بے مثال فن پارے شامل ہیں، جو اسلامی خطاطی کے روایتی اور جدید اسلوب میں اپنی مہارت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان کے کاموں کو شرکاء کی جانب سے بے حد سراہا گیا ہے، جن میں مختلف شعبوں کی سرکردہ شخصیات شامل تھیں، جنہوں نے تبین قرآنی تحقیقاتی ادارے کی اس ثقافتی اور مذہبی تقریب کے انعقاد کی کوششوں کو سراہا۔تبین قرآنی تحقیقاتی ادارہ اسلامی فن و تعلیم کے فروغ کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ معروف ماہرِ تعلیم اور کامرس گرو اکیڈمی کے بانی، جناب سلیم میر نے کہا کہ جاری نمائش کشمیر کے گہرے فنی ورثے اور اسلامی خطاطی کے تحفظ و ترویج کے عزم کا عملی ثبوت ہے۔ ادارے کے چیئرمین آغا سید عابد حسین نے کہا کہ یہ تقریب 30 مارچ 2025 تک عوام کے لیے کھلی رہے گی، اور انہوں نے فن کے شائقین، طلبہ اور اسکالروں کو دعوت دی کہ وہ اس بابرکت قرآنی خطاطی کی خوبصورتی کا مشاہدہ کریں اور اس سے روحانی و فنی طور پر مستفید ہوں۔











