امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے پارلیمنٹ میں منظور ہوئی وقف (ترمیمی) بل 2025 کو ’’ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں کو مزید پسماندہ کرنے کی کوشش‘‘ قرار دیتے ہوئے اس بل کی سخت مخالفت کی۔ جمعہ کو جاری ایک بیان میں مہدی نے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر مسلم اراکین کو اپنی رائے ظاہر کرنے کی اجازت دیے بغیر وقف بل منظور کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بھاجپا کی سخت نکتہ چینی کی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ قانون سازی ’’رات کے اندھیرے میں‘‘ اس نیت سے کی گئی کہ وقف کی خودمختاری ختم ہو جائے اور مسلم جائیدادوں پر قبضہ ممکن اور آسان بنایا جا سکے۔ مہدی نے جاری کیے گئے بیان میں کہا: ’’ایسی جماعت، جس کا کوئی بھی مسلم رکن پارلیمنٹ نہیں، کو مسلمانوں کی نمائندگی کا کوئی اخلاقی یا سیاسی حق نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس بل کی منظوری سے بی جے پی کے ‘‘مسلم مخالف اور اقلیت دشمن عزائم‘‘ کی تصدیق ہوتی ہے، جو مسلمانوں کو جمہوری عمل میں مزید بے اختیار کر رہی ہے۔
’پارلیمنٹ میں آواز دبانے کی کوشش‘
مہدی نے یہ بھی کہا کہ انہیں پارلیمنٹ میں اس بل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، کیونکہ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس (جے کے این سی) کے فلور لیڈر نے بحث کے دوران مکمل وقت لے لیا۔ اس عمل کو ’’اداراتی سطح پر مسلمانوں کو حاشیے پر دھکیلنے‘‘ کی ایک اور مثال قرار دیتے ہوئے، مہدی نے کہا کہ یہ رویہ ان کے حلقے میں شدید بےچینی اور ناراضگی کا سبب بنا ہے۔
’جدوجہد جاری رہے گی‘
رکن پارلیمنٹ نے عزم ظاہر کیا کہ وہ وقف بل کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے اسے ’’مسلمانوں پر جارحانہ حملہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے خلاف ان کی مزاحمت مزید شدت اختیار کرے گی۔
واضح رہے کہ جمعہ کو پارلیمنٹ نے وقف (ترمیمی) بل 2025 کثرت رائے سے منظور کر لیا اور بی جے پی کی اکثریت کی وجہ سے یہ بل دونوں ایوان – لوک سبھا و راجیہ سبھا – میں بآسانی پاس ہو گئی۔ یہ قانون سازی اب صدرِ جمہوریہ کے دستخط کے بعد باضابطہ قانون بن جائے گی۔ اس بل کے خلاف جہاں ملک بھر کے مسلم رہنماؤں نے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا ہے وہیں جموں کشمیر کی حکمران جماعت نیشنل کانفرنس نے بھی آج صبح ہنگامی میٹنگ منعقد کی تھی جس میں وقف ترمیمی بل کے پاس ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔










