امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے بدھ کے روز کہا کہ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور مرکزی حکومت کے زیرانتظام علاقہ کے سینئر پارٹی رہنماؤں سے پہلگام میں منگل کو ہوئے خوفناک حملے سے متعلق تازہ صورتحال پر بات چیت کی۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ ’متاثرین کے اہل خانہ کے ساتھ انصاف کیا جائے‘۔
کھرگے نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر میں سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں سے مل کر بات کرے۔
کانگریس کے سربراہ نے کہا کہ منگل کی رات دیر گئے، انہوں نے وزیر داخلہ شاہ، جے کے وزیر اعلیٰ عبداللہ اور جے کے کانگریس کے سینئر لیڈروں سے پہلگام میں ہوئے قتل عام کے بارے میں بات کی جس میں کم از کم 26 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر سیاح تھے۔
انہوں نے ایکس پر لکھا کہ "گزشتہ شام دیر گئے، میں نے مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ، جموں و کشمیر کے وزیر اعلی جناب عمر عبداللہ، ہماری پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اور پارٹی کے دیگر سینئر رہنماؤں سے بات کی۔” کھرگے نے کہاکہ "اس مشکل وقت میں ہمیں متحد ہونا چاہئے۔
سرحد پار سے ہونے والے اس حملے کا مناسب اور پرعزم جواب دیا جانا چاہیے۔ حکومت ہند کو جموں و کشمیر میں سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں سے بات کرنی چاہیے اور سیاحوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔”
کانگریس صدر نے کہا کہ "2000 میں چٹی سنگھ پورہ کے ہولناک قتل عام کے بعد سے، یہ علیحدگی پسند قوتوں کی سب سے زیادہ اشتعال انگیز کاروائیوں میں سے ایک ہے۔ ہم مضبوطی سے اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ جو غیر مسلح اور معصوم شہریوں کو قتل کرتے ہیں وہ انسان نہیں ہو سکتے۔” انہوں نے کہا کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) جمعرات کو نئی دہلی میں ملاقات کرے گی تاکہ اس معاملے پر غور کیا جاسکے۔
انہوں نے کہاکہ "سی ڈبلیو سی کل صبح 11 بجے اے آئی سی سی آفس، دہلی (24 اکبر روڈ) میں حملہ کے بارے غور و فکر کرنے کےلئے اجلاس منعقد کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ "یہ متعصبانہ سیاست کا وقت نہیں ہے۔ یہ اجتماعی عزم کا لمحہ ہے کہ اس حملے کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لاکر اپنی جانیں گنوانے والوں اور ان کے غم زدہ خاندانوں کے لیے انصاف کو یقینی بنایا جائے۔” جموں و کشمیر کی سیاحت پر اس حملے کے برے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے، کھرگے نے کہا، "گرمیوں کا موسم ابھی شروع ہوا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب سیاح خطے کا دورہ کرنے لگتے ہیں۔ جموں و کشمیر کی معیشت اور اس کے لوگوں کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ کشمیر کے لوگ صرف سیاحت پر انحصار کرتے ہیں۔ اس لیے اس سال کی معیشت تباہ ہو چکی ہے۔ حکومت ہند کو چاہیے کہ اس وقت دہشت گردوں کے خلاف سخت کاروائی کرے، اس کےلئے ہمیں حکومت کی مدد کرنی چاہئے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ’امرناتھ یاترا چند دنوں میں شروع ہونے والی ہے اور ہر سال لاکھوں سیاح اس میں شرکت کرتے ہیں۔ اس سے قبل یاترا کے دوران بھی ایسے حملے ہو چکے ہیں۔ اس لیے یاتریوں کے تحفظ کےلئے مناسب اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم حکومت سے یہ بھی توقع کرتے ہیں کہ ملی ٹینسی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ رائے مشورہ لیکر سخت اقدامات کئے جائیں‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیاست نہیں ہے اور ہم اس صورتحال میں سیاست نہیں چاہتے۔










