امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: کشمیر کے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد ہندوستان پاکستان کے بیچ شدید کشیدگی کے درمیان بڑی خبر ہے۔ ہندوستانی سرحدی فورسز (بی ایس ایف) کے ایک جوان کو گذشتہ روز 23 اپریل کو پاکستانی رینجرز نے اپنی حراست میں لے لیا۔ یہ واقعہ کل پیش آیا لیکن خبر آج سامنے آئی ہے۔ فی الحال بی ایس ایف نے اپنے جوان کی بحفاظت واپسی کے لیے فلیگ میٹنگ طلب کی ہے۔ جانکاری کے مطابق، جوان ڈیوٹی کے دوران پنجاب کے فیروز پور میں غلطی سے بین الاقوامی سرحد پار کر کے پاکستانی حدود میں چلا گیا تھا۔
اس سلسلے میں بی ایس ایف کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ سپاہی کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنانے کے لیے فلیگ میٹنگ بلائی گئی ہے۔ افسر نے بتایا کہ فوجی کی رہائی کے لیے دونوں ممالک کی افواج کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 182ویں بٹالین کے کانسٹیبل پی کے سنگھ کو پاکستان رینجرز نے بدھ کو فیروز پور سرحد کے پاس پاکستانی حدود میں جانے کے بعد حراست میں لیا تھا۔
نوجوان وردی میں تھا
افسر نے بتایا کہ حراست میں لیا گیا جوان وردی میں تھا اور اس کے پاس سروس رائفل بھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس ایف کا وہ جوان کچھ کسانوں کے ساتھ تھا اور وہ سائے میں آرام کرنے کے لیے آگے بڑھا، جس کے بعد اسے پاکستانی رینجرز نے پکڑ لیا۔
خطرناک وقت میں پیش آیا واقعہ
آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات اپنی نچلی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ اس حملے میں 26 افراد ہلاک ہوگئے۔ حملے کے بعد بھارت نے پاکستان کے خلاف کئی سخت اقدمات کیے ہیں۔ ان میں پاکستانی ملٹری اتاشی کو ملک بدر کرنا، سندھ طاس معاہدے معطل کرنا، اٹاری بارڈر کو بند کرنا اور سارک ویزا ایکسپشن سکیم کے تحت سفری اجازت واپس لینا شامل ہے۔
اس کے جواب میں پاکستان نے بھی واگھہ بارڈر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے بھارتی ایئر لائنز کے لیے اپنے فضائی حدود بند کرنے کے ساتھ ساتھ دو طرفہ کاروبار کو معطل کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔










