امت نیوز ڈیسک //
جموں: ہندوستانی فوج نے جموں و کشمیر کے پونچھ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر ایک پاکستانی شہری کو گرفتار کیا ہے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی شہری کو لائن آف کنٹرول سے پکڑا گیا۔ حکام نے لائن آف کنٹرول پر نگرانی بڑھا دی ہے۔ یہ واقعہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ پاکستانی شہری بھارتی سرحد میں داخل ہونے کے بعد کیا کر رہا تھا، آیا وہ غلطی سے سرحد پار کر گیا تھا یا جاسوسی یا ملی ٹینٹ کارروائی کے لیے بھارتی سرحد میں داخل ہوا تھا۔
اطلاعات کے مطابق مذکورہ شخص کی گرفتاری کے بعد مزید تفتیش جاری ہے۔ حکام کے مطابق گرفتار پاکستانی شہری کی شناخت اور ایل او سی عبور کرنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یہ گرفتاری ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
افسران تحقیقات میں مصروف
موصولہ اطلاعات کے مطابق درآنداز کی عمر تقریباً 20 برس ہے۔ لائن آف کنٹرول سے بھارت میں داخل ہونے کے فوراً بعد اسے فوج کے اہلکاروں نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ گرفتار نوجوان کو پوچھ گچھ کے لیے لے جایا گیا ہے۔ فوج تفتیش کر رہی ہے کہ گرفتار پاکستانی شخص کون ہے اور وہ بھارتی سرحد میں کیوں داخل ہوا؟
اس سے قبل 3 مئی کی رات بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے ہندوستانی حدود میں داخل ہونے والے ایک پاکستانی شہری کو پکڑا تھا۔ حکام نے پیر کو بتایا کہ 3 مئی کی رات، دریا منصور میں بارڈر آؤٹ پوسٹ (BOP) ساہ پور پر ڈیوٹی پر تعینات بی ایس ایف کے دستوں نے ہندوستانی علاقے کے اندر تقریباً 250 میٹر کے فاصلے پر فلکو نالہ کے قریب مشتبہ سرگرمی دیکھی۔ جھاڑیوں میں چھپے ایک شخص کو پکڑا گیا، جس کی شناخت بعد میں حسین نامی پاکستانی شہری کے نام سے ہوئی۔








