امت نیوز ڈیسک //
نیویارک، 6 مئی : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بند کمرہ مشاورت میں تبادلہ خیال کیا، جہاں رکن ممالک نے کشیدگی میں کمی اور مذاکرات پر زور دیا۔
سلامتی کونسل کی میٹنگ کی صدارت پر موجود یونان نے پاکستان کی درخواست پر پیر کے روز یہ اجلاس طلب کیا، جو اس وقت کونسل کا غیر مستقل رکن ہے۔ یہ اجلاس جموں و کشمیر کے پہلگام میں حملے کے بعد بلایا گیا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے اور جس پر بھارت میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔
تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والا یہ اجلاس سلامتی کونسل کے مرکزی ہال میں نہیں بلکہ اس کے ساتھ موجود مشاورتی کمرے میں منعقد ہوا۔ 15 رکنی سلامتی کونسل نے اجلاس کے بعد کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم پاکستان نے دعویٰ کیا کہ اس کے بیشتر مقاصد پورے ہو گئے۔
مشرق وسطیٰ، ایشیا اور بحرالکاہل کے لیے اقوام متحدہ کے سیاسی و امن قائم رکھنے والے امور کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل خالد محمد خیاری نے کونسل کو بریفنگ دی۔ اجلاس کے بعد انہوں نے کہا کہ فریقین سے "بات چیت اور پرامن حل” کی اپیل کی گئی اور اس بات کا اعتراف کیا کہ صورتحال کشیدہ ہے۔
یونان کے مستقل مندوب اور کونسل کے موجودہ صدر ایوانجیلس سیکیریس نے اجلاس کو "کارآمد اور بامعنی” قرار دیا۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے کہا تھا کہ یہ اجلاس "نقطہ نظر کے اظہار کا موقع ہوگا، جو کشیدگی کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔”ایک روسی سفارتکار نے اجلاس کے بعد کہا، "ہم کشیدگی کے خاتمے کی امید رکھتے ہیں۔”
پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے صحافیوں کو بتایا کہ اجلاس میں پاکستان کے مقاصد "بڑی حد تک حاصل ہو گئے۔” ان کے مطابق بند کمرہ مشاورت کا مقصد بھارت اور پاکستان کے درمیان بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر کونسل اراکین کو آگاہ کرنا، تصادم سے گریز کی ضرورت کو اجاگر کرنا اور کشیدگی میں کمی کی راہیں تلاش کرنا تھا۔
انہوں نے کونسل کے اراکین کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے تحمل، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا، "پاکستان تصادم نہیں چاہتا، لیکن ہم اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔”پاکستان نے اجلاس میں بھارت کی جانب سے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا معاملہ بھی اٹھایا۔ احمد نے کہا، "پانی زندگی ہے، ہتھیار نہیں۔ یہ دریا 24 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہیں۔”
احمد نے مزید کہا کہ پاکستان نے اجلاس میں ایک بار پھر بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن اور تعمیری تعلقات کے عزم کا اعادہ کیا، اور اس بات پر زور دیا کہ "ہم باہمی احترام اور خودمختار برابری کی بنیاد پر بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔”انہوں نے کہا کہ موجودہ نازک صورتحال کے پیش نظر سیکریٹری جنرل اور کونسل اراکین کی جانب سے پرامن حل، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی اپیلیں نہایت اہم ہیں۔









