امت نیوز ڈیسک //
بھارت:بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بیچ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور سنگاپور نے اپنے شہریوں کو جموں و کشمیر کا سفر نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ان ممالک نے سیکیورٹی خدشات اور علاقے میں بدامنی کے خطرے کے پیش نظر یہ سفری ہدایات جاری کی ہیں۔ 7 مئی کی شام امریکی سفارتخانے نے نئی دہلی سے سیکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے امریکی شہریوں کو ہدایت دی کہ وہ بھارت میں ’جرم اور دہشت گردی‘ کے خطرات کے پیش نظر احتیاط برتیں، اور ’جموں و کشمیر (مشرقی لداخ اور لیہہ کے علاوہ) کا سفر ہرگز نہ کریں‘۔ الرٹ میں کہا گیا کہ ’تشدد اور بدامنی‘ کا امکان موجود ہے، اس لیے عوامی ہجوم سے بچیں اور ذاتی سیکیورٹی کا خاص خیال رکھیں۔
کینیڈا نے بھی اپنا سفری مشورہ اپ ڈیٹ کرتے ہوئے اپنے شہریوں سے کہا کہ وہ ’جموں و کشمیر کی یونین ٹیریٹری کا سفر نہ کریں کیونکہ سیکیورٹی صورتحال غیر یقینی ہے‘۔ کینیڈین حکومت نے دہشت گردی، بدامنی اور اغوا کے خطرات کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’’حالات کسی بھی وقت خراب ہو سکتے ہیں۔‘‘
برطانیہ کی وزارت خارجہ نے بھی بھارت-پاکستان سرحد سے 10 کلومیٹر کے اندر سفر سے منع کیا ہے، اور جموں و کشمیر کے لیے غیر ضروری سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ مشورے میں دہشت گردی، بدامنی اور اغوا کے شدید خطرے کا ذکر کای گیا ہے، ساتھ ہی فوجی سرگرمیوں میں اضافے اور اچانک تشدد کے امکان کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
آسٹریلیا کی وزارت خارجہ نے اپنے ’سمارٹ ٹریولر‘ پلیٹ فارم کے ذریعے آسٹریلوی شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ’بھارت کے سفر پر نظر ثانی کریں‘ اور ’جموں و کشمیر کا ہرگز سفر نہ کریں‘ کیونکہ وہاں ’مسلح تصادم، بدامنی اور دہشت گرد حملوں‘ کا خطرہ ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ان علاقوں میں قونصلر مدد محدود ہو سکتی ہے۔
سنگاپور نے بھی 7 مئی کو جاری ہدایت میں اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بھارت کے جموں و کشمیر اور پاکستان کا غیر ضروری سفر مؤخر کریں۔ وزارت خارجہ نے بھارت-پاکستان کے درمیان ’غیر مستحکم سیکیورٹی صورتحال‘ کا حوالہ دیا۔ مشورے میں سنگاپور کے شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ سرحدی علاقوں میں احتیاط برتیں، ہجوم سے گریز کریں، مقامی خبروں پر نظر رکھیں، حکام کی ہدایات پر عمل کریں اور وزارت کے ساتھ رجسٹریشن کرائیں تاکہ ایمرجنسی میں مدد فراہم کی جا سکے۔










