امت نیوز ڈیسک //
امریکہ کے سابق صدر جو بائیڈن "پروسٹیٹ کینسر” میں مبتلا ہیں۔ یہ اطلاع اتوار کے روز ان کے دفتر کی جانب سے دی گئی۔ بائیڈن کے دفتر نے بتایا کہ 82 سالہ سابق صدر کو پیشاب سے متعلق کچھ مسائل لاحق تھے، جس کے بعد ان کے طبی معائنے کیے گئے۔ معائنوں میں ڈاکٹروں کو ان کے پروسٹیٹ میں ایک گلٹی کا پتہ چلا۔ جمعہ کے روز اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ وہ پروسٹیٹ کینسر میں مبتلا ہیں، اور مزید جانچ سے معلوم ہوا کہ کینسر کے خلیے ان کی ہڈیوں تک پھیل چکے ہیں۔
یہ بیماری کی ایک سنگین حالت ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ سابق صدر اور ان کا خاندان معالجین کے ساتھ علاج کے امکانات پر غور و خوض کر رہے ہیں۔ پروسٹیٹ کینسر کی شدت کو "گلیسن اسکور” کے ذریعے جانچا جاتا ہے، جو 6 سے 10 کے درمیان ہوتا ہے۔ 8، 9 اور 10 اسکور کو نہایت شدید مانا جاتا ہے۔ بائیڈن کے دفتر نے بتایا کہ ان کا اسکور 9 ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ ان کا کینسر انتہائی سنگین سطح پر ہے۔
بائیڈن کی بیماری سامنے آنے کے بعد کئی عالمی رہنماؤں نے ان کی جلد صحتیابی کی دعا کی ہے۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ہم جو کی جلد اور مکمل صحتیابی کی دعا کرتے ہیں۔
سابق نائب صدر کملا ہیرس نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ جو ایک سچے مجاہد ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ وہ اس چیلنج کا بھی اسی حوصلے اور امید کے ساتھ سامنا کریں گے، جس نے ہمیشہ ان کی زندگی اور قیادت کو معنی دیے ہیں۔
سابق صدر باراک اوباما نے کہا کہ ان کی دعائیں بائیڈن کے ساتھ ہیں اور انہوں نے بائیڈن کے حوصلے کو سراہا۔ اوباما نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ کسی نے بھی کینسر کا علاج ڈھونڈنے کے لیے جو بائیڈن سے زیادہ محنت نہیں کی، اور مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے مخصوص عزم اور وقار کے ساتھ اس چیلنج کا مقابلہ کریں گے۔











