امت نیوز ڈیسک //
جموں : گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈوڈہ سے جڑا تنازع اُس وقت تھم گیا جب ایسوسی ایٹڈ اسپتال میں او پی ڈی خدمات بحال ہو گئیں اور مریضوں نے راحت کی سانس لی۔ ایم ایل اے ڈوڈہ کے خلاف ایف آئی آر درج کیے جانے اور ان کے احتجاجی مارچ کو پولیس کی جانب سے ناکام بنائے جانے کے بعد جی ایم سی ڈوڈہ کے طبی و نیم طبی عملہ نے ہڑتال ختم کی۔
اس معاملے میں اہم پیش رفت اُس وقت ہوئی جب ماہر امراض خواتین اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر مدھو چھب کی شکایت پر پولیس اسٹیشن ڈوڈہ میں ایم ایل اے ڈوڈہ معراج ملک کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ ایف آئی آر بی این ایس کی دفعات 356(2)، 79 اور 351(2) کے تحت توہین، خواتین کی عزت پر حملہ اور مجرمانہ دھمکیوں کے الزامات پر درج کی گئی ہے۔
ڈاکٹر مدھو چھب نے اپنی شکایت میں الزام عائد کیا تھا کہ ایم ایل اے نے سوشل میڈیا پر انہیں ’’ننگا کر کے اسپتال سے گھسیٹنے‘‘ جیسی دھمکیاں دیں، جو ان کی عزت اور تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ قبل ازیں، ایم ایل اے ڈوڈہ کی جانب سے ڈاکٹروں پر سنگین الزامات عائد کیے جس کے جواب میں ڈاکٹروں نے ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا اور ایم ایل اے کے رویہ پر احتجاجً اسپتال میں صرف ایمرجنسی خدمات چالو رکھنے اور او پی ڈی خدمات معطل کر دی تھی۔
جمعرات کی صبح سول سوسائٹی نے ہڑتالی ڈاکٹرز سے بات کی اور انہیں عوامی مفاد میں خدمات بحال کرنے پر راضی کیا تھا۔ اس کے بعد او پی ڈی سروس دوبارہ شروع ہو گئیں۔
ادھر، ضلع انتظامیہ اور پولیس نے ایم ایل اے معراج ملک کو ڈوڈہ ہیڈکوارٹر کی جانب مارچ کرنے سے روک دیا اور انہیں بھلیسہ میں ہی ان کے آبائی علاقے تک محدود رکھا۔ ایم ایل اے نے مارچ کا اعلان اس مقصد سے کیا تھا کہ وہ اسپتال پہنچ کر خدمات بحال کروائیں گے۔
ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے ایک اہلکار نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا: ’’ڈاکٹرز اور ایم ایل اے کے درمیان براہ راست تصادم کا خدشہ تھا، جسے ہم نے ہونے نہیں دیا۔ اب حالات قابو میں ہیں اور ڈوڈہ میں معمول کی خدمات بحال ہو چکی ہیں۔‘‘
ڈاکٹر بابر رشید زرگر، اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ سرجری، GMC ڈوڈہ نے کہا: ’’انتظامیہ اور سول سوسائٹی کی بروقت کوششوں سے حالات معمول پر آ گئے ہیں اور تمام ڈاکٹروں کو محفوظ ماحول کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔‘‘











