امت نیوز ڈیسک //
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو کہا کہ ہندوستانی زبانیں ملک کی شناخت کی روح ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہندوستان اپنے لسانی ورثے کو دوبارہ حاصل کرے اور دنیا کی قیادت مقامی زبانوں پر فخر کے ساتھ کرے۔ سابق آئی اے ایس افسر آشوتوش اگنی ہوتری کی کتاب ’’میں بوند سویم، خود ساگر ہوں‘‘ کی تقریبِ اجرا کےموقع پر خطاب کرتے پوئے امت شاہ نے کہا کہ ’’اس ملک میں انگریزی بولنے والے جلد ہی شرمندہ ہوں گے۔۔۔ایسا سماج بننے میں زیادہ وقت نہیں۔ صرف وہی لوگ تبدیلی لا سکتے ہیں جو عزم رکھتے ہیں۔ ہمارے ملک کی زبانیں ہماری تہذیب کے زیور ہیں۔ اپنی زبانوں کے بغیر ہم حقیقی معنوں میں ہندوستانی نہیں ہو سکتے۔‘‘
غیرملکی زبانیں ہماری تہذیب و ثقافت کی تفہیم و ترسیل میں ناکام ہیں: امت شاہ
انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہمارے ملک، ثقافت، تاریخ اور مذہب کو سمجھنے کے لیے کسی غیر ملکی زبان سے کام نہیں چل سکتا۔ آدھی ادھوری غیر ملکی زبانوں سے مکمل ہندوستان کا تصور ممکن نہیں۔ میں جانتا ہوں یہ جنگ مشکل ہے، لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ ہندوستانی معاشرہ یہ جنگ جیت لے گا۔ ہم اپنی زبانوں کے ساتھ خوداعتمادی کے ساتھ نہ صرف اپنے ملک کو چلائیں گے بلکہ دنیا کی رہنمائی بھی کریں گے۔‘‘
امت شاہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ’پنچ پران‘ یعنی پانچ عہد کا ذکر کرتے ہوئے کہ یہ پانچ عہد یعنی ترقی یافتہ ہندوستان، غلامی کی ہر نشانی سے نجات، اپنی وراثت پر فخر، اتحاد و یکجہتی اور ہر شہری میں اپنے فرائض کی تکمیل کا جذبہ پیدا کرنا ملک کے 130 کروڑ عوام کا عزم بن چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’مودی جی نے امرت کال کے لیے پنچ پران کا خاکہ پیش کیا ہے۔ 2047 تک ہم دنیا کی بلندیوں پر ہوں گے اور ہماری زبانیں اس سفر میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔‘‘
سرکاری افسران میں ہونا چاہیے ہمدردی کا جذبہ: وزیر داخلہ
دریں اثنا آشوتوش اگنی ہوتری کی کتاب پر بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ’’انتظامی افسران کی تربیت میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ عام طور پر ان میں ہمدردی کو نظام کا حصہ بنانے کی تربیت نہیں دی جاتی، شاید اس کی وجہ وہ تربیتی نظام ہے جو انگریزوں کے دور سے متاثر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی حکمران یا منتظم ہمدردی کے بغیر حکومت کرے، تو وہ حکمرانی کا اصل مقصد حاصل نہیں کر سکتا۔‘‘
ہمارا ادب ہمارے سماج کی روح ہے: امت شاہ
امت شاہ نے ادب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’ادب ہمارے سماج کی روح ہے۔ جب ہمارا ملک تاریکی کے دور سے گزر رہا تھا، تب بھی ادب نے ہمارے مذہب، آزادی اور ثقافت کے چراغ جلائے رکھے۔ حکومت بدلی تو کسی نے مخالفت نہیں کی، لیکن جب بھی کسی نے ہمارے مذہب، ثقافت یا ادب کو چھونے کی کوشش کی، ہمارے سماج نے متحد ہو کر اس کا مقابلہ کیا اور اسے شکست دی۔‘‘











