امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر پولیس نے باہر کی ریاستوں سے درآمد شدہ گوشت کا کاروبار کرنے والے ایک گروہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا ہے، اس گروپ کے گودام سے گزشتہ ہفتے سرینگر کی مضافات میں ایک چھاپے کے دوران سڑے اور غیر صحت بخش گوشت کی ایک بڑی کھیپ ضبط کرکے تلف کی گئی تھی جسے مقامی ریستورانوں اور سڑک کنارے چلنے والے بھنے ہوئے گوشت کا کاروبار کرنیوالوں کو سپلائی کیا جانا تھا۔
ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے متعلقہ تھانے میں دفعہ 272 اور 274 کے تحت سن شائن فوڈز کے خلاف مقدمہ درج کرایا جہاں 31 جولائی کو سرینگر میں 1200 کلو گرام سڑا ہوا اور غیر صحت بخش پیک شدہ بکرے یا بھیڑ کا گوشت (مٹن) برآمد ہوا۔
ڈرگ اینڈ فوڈ سیفٹی تنظیم کے عہدیداروں نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ پیک شدہ گوشت کو باہر سے وادی میں منتقل کیا گیا تھا اور اس کا مقصد ہوٹلوں اور ریستوراں جیسے تجارتی اداروں کو سپلائی کرنا تھا۔
ایک اہلکار نے بتایا کہ انکی تفتیش جاری ہے اور ایک پولیس ٹیم نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا ہے۔ یونٹ کے آپریٹر کے علاوہ، دہلی اور سرینگر سے دو مزید افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انکے مطابق تحقیقات سے پتہ چلا کہ دلی کا شخص سپلائی چین میں ایک اہم کردار ہے۔
ان افراد اور متعلقہ فوڈ بزنس آپریٹرز (ایف بی او) کے خلاف فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ کی دفعات کے تحت قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ان دفعات کے تحت زہریلی اشیاء کا کاروبار کرنیوالوں کو دو سال تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔
سڑے ہوئے گوشت کی بھاری کھیپ کے ضبط کئے جانے کے واقعے نے کشمیر کے باشندوں میں تشویش کو جنم دیا ہے جہاں 60000 ٹن گوشت سالانہ استعمال کیا جاتا ہے اور یہ یہاں کے لوگوں کی غذا کا چاول کے بعد سب سے بڑا حصہ ہے۔ کشمیر میں اوسطاً 50 ٹرکوں پر روزانہ کی بنیاد پر 5000 سے زیادہ جانور بیرونی ریاستوں سے درآمد ہوتے ہیں۔ تخمینے بتاتے ہیں کہ نصف سے زیادہ سپلائی باہر سے آتی ہے جس میں مٹن پر سالانہ 4000 کروڑ کے قریب خرچ ہوتا ہے۔
لیکن باہر سے پیک شدہ مٹن مکمل طور پر تجارتی اداروں کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ یہ زندہ جانوروں کی سپلائی کے مقابلے میں سستے نرخوں پر فروخت ہوتا ہے۔ ضبط کی گئی کھیپ سے اب مقامی لوگوں میں یہ تشویش بھی بڑھ گئی ہے کہ آیا یہ گوشت حلال طریقے سے ذبح کئے جانے کے بعد حاصل کیا جاتا ہے یا نہیں! انکے مطابق اس میں حلال سرٹیفیکیشن بھی موجود نہیں ہے۔
جاوید ٹینگا، جو کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے سربراہ ہیں، نے کہا کہ اس چونکا دینے والے واقعے کے انکشاف کے بعد صارفین کا فوڈ کے کاروبار پر بھروسہ بہت زیادہ متزلزل ہوا ہے۔
’’یہ صرف خوراک کے تحفظ میں کوتاہی نہیں ہے بلکہ صحت عامہ کے لیے ایک سنگین خطرہ اور بنیادی صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔‘‘ انہوں نے گہرائی سے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس یونٹ کو ٹیکسٹائل کے لیے صنعتی اسٹیٹ سے باہر کام کرنے کی اجازت کیسے دی گئی۔
چھاپہ مار کارروائی 31 جولائی کو سرینگر کے زکورہ کے مضافات میں چھوٹے پیمانے کی اکائیوں کے لیے صنعتی اسٹیٹ ہے، جہاں سے بھاری مقدار میں سڑا ہوا گوشت ضبط کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’یہ یونٹ پچھلے کئی سالوں سے اس جگہ سے کام کر رہا تھا۔ ظاہر ہے کہ متعلقہ حکام کی علمیت کے بغیر انکا کاروبار ممکن نہیں تھا۔ اس سب کی تحقیقات ہونی چاہیے اور فوڈ آپریٹرز کے لیے حلال سرٹیفیکیشن کی ضرورت سمیت فوڈ سیفٹی کے سخت قوانین کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔‘‘
اعلیٰ کاروباری ادارہ خوراک کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اس معاملے کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ساتھ اٹھانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
پولٹری ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر پرویز احمد وانی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں کہا، ’’باہر سے تیار شدہ چکن سستے داموں فروخت ہوتا ہے لیکن اس کے حلال ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ ہم ریستورانوں اور ہسپتالوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مقامی بازار سے لائیو سپلائی حاصل کریں۔‘‘









