امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 5 ستمبر: اے این سی کے سینئر نائب صدر مظفر شاہ نے حضرت بل درگاہ میں کندہ شدہ پتھر پر بنے اشوک کے قومی نشان کو توڑنے کے واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ’’ایمان سے کھلواڑ‘‘ اور کشمیر میں بلاوجہ بدامنی کو ہوا دینے کی کوشش قرار دیا ہے۔
ایک بیان میں شاہ نے جموں و کشمیر وقف بورڈ کو فوری طور پر تحلیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سنگین کوتاہی کے نتیجے میں وادی میں قانون و نظم کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا:“جو لوگ اسلامی روایت سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ کسی مسجد یا مزار میں تصویر کی کوئی گنجائش نہیں۔ حضرت بل جموں و کشمیر کا سب سے مقدس مزار ہے اور ایسے دانستہ یا غیر ذمہ دارانہ اقدامات جو لاکھوں عقیدتمندوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائیں، وقف بورڈ اور اس کے عہدیداروں کی مکمل ناکامی کی علامت ہیں۔”
مظفر شاہ نے مزید کہا کہ حضرت بل کے ساتھ عقیدتمندوں کا گہرا روحانی و جذباتی رشتہ ہے، جو براہِ راست نبی کریم ﷺ کے تبرک سے جڑا ہوا ہے، اس لیے حکام کو مسلم برادری کے صبر کا امتحان لینے سے گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے یاد دلایا:“ہم نے مقدس موئے مقدس تحریک دیکھی ہے اور اس کے اسباق آج بھی زندہ ہیں۔ جو لوگ ذمہ دار ہیں انہیں سمجھنا چاہیے کہ حضرت بل سمیت یہ تمام مزارات عوام کے لیے کس قدر مقدس ہیں۔”
آخر میں انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ ایسے عہدیداروں کو فوری طور پر برطرف کرے جو محض سیاسی فائدے کے لیے کشیدگی کو ہوا دیتے ہیں۔ (کے این)









