امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 6 ستمبر :حضرتبل درگاہ میں حال ہی میں نصب کی گئی تختی پر کندہ اشوک نشان کے مسخ کیے جانے کے معاملے میں پولیس نے ہفتہ کے روز ایک ایف آئی آر درج کی۔
اہلکاروں نے بتایا کہ ایف آئی آر نمبر 76/2025 تھانہ نگین میں درج کی گئی ہے، جب درجنوں نمازیوں نے اس نشان پر اعتراض کرتے ہوئے اسے غیر اسلامی قرار دیا اور پتھر سے جزوی طور پر مٹا دیا۔ تختی کے بائیں حصے سے نشان مٹایا گیا جبکہ دیگر حصے جوں کے توں رہے۔
یہ تختی 3 ستمبر کو درگاہ کی از سر نو تعمیر اور ترقیاتی کاموں کی تکمیل کے بعد نصب کی گئی تھی، جس کا افتتاح وقف بورڈ کی چیئرپرسن درخشاں اندرابی نے کیا تھا۔ بعد ازاں ان کا یہ بیان کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا، سیاسی حلقوں میں شدید ردِعمل کا باعث بنا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی دونوں نے اندرابی کے بیان کی مذمت کی، جبکہ محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ نمازیوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے حکومت کو وقف بورڈ کی چیئرپرسن اور اس کے چار اراکین پر مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کا مقدمہ درج کرنا چاہیے۔
ابھی تک اس معاملے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں۔
اس واقعے نے کشمیر کی مقدس ترین درگاہوں میں سے ایک پر ریاستی نشان کی موجودگی کے تنازع کو مزید گہرا کر دیا ہے، جسے کئی مذہبی و سیاسی جماعتیں تقدس کی خلاف ورزی قرار دے رہی ہیں۔










